.

شام: روس کے اسکول پر فضائی حملے میں 8 بچے جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی صوبے حلب میں روسی طیارے کے ایک اسکول پر فضائی حملے میں ایک استاد سمیت آٹھ بچے جاں بحق ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ روسی طیارے نے حلب کے قصبے انجارا میں واقع اسکول پر بمباری کی ہے۔اس سے بیس افراد زخمی ہوئے ہیں اور یہ تمام بچے اور اساتذہ ہیں۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ حلب میں اتوار سے شامی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے اور باغیوں کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کی جارہی ہے۔حلب کے شامی فوج کے زیر قبضہ علاقے پر باغیوں کی گولہ باری سے تین بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ حلب سنہ 2012ء میں دو حصوں میں منقسم چلا آرہا ہے۔شہر کے مغربی حصے پر شامی فوج کا کنٹرول ہے اور مشرقی حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے اور ان کے درمیان تب سے لڑائی جاری ہے۔اس دوران شامی فوج باغیوں کے ٹھکانوں پر تباہ کن فضائی حملے بھی کرتی رہتی ہے جبکہ باغی گروپ جواب میں راکٹ حملے یا گولہ باری کرتے رہتے ہیں۔

شہر کے نواحی علاقوں میں صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے اور باغیوں کا حلب کے مغرب میں واقع علاقوں پر قبضہ ہے جبکہ شامی فوج نے مشرقی علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے۔روس کی شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں فضائی کمک آنے کے بعد سے باغیوں کو بعض علاقوں سے محروم ہونا پڑاہے اور وہ روسی طیاروں کی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں پسپا ہوگئے ہیں۔

روس 30 ستمبر سے شام میں داعش اور دوسرے ''دہشت گرد'' گروپوں پر فضائی حملے کررہے ہیں لیکن آبزرویٹری کے بہ قول ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں ایک تہائی عام شہری ہیں۔آبزرویٹری نے دسمبر کے آخر میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ روس کے فضائی حملوں میں 2300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں 792 شہری ہیں۔

تاہم روس شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق رپورٹس کو مضحکہ خیز قراردیتے ہوئے مسترد کرتا چلا آرہا ہے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں روس کی فضائی بمباری میں شہریوں کو ہدف نہیں بنایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''روس شہریوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کرتا ہے''۔

یادرہے کہ انسانی حقوق کی دو عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو)نے حال ہی میں اپنی رپورٹس جاری کی ہیں اور ان میں روس پر شام میں جنگی قوانین اور عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔

ہیومن رائٹس واچ نے روسی فضائیہ کے علاوہ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج پر بھی شام میں ستمبر سے باغی گروپوں کے خلاف کلسٹر بم استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور شامی کارکنان کا کہناہے کہ روس کے لڑاکا طیارے داعش کے اہداف کو نشانہ بنانے کے بجائے اعتدال پسند باغی جنگجو گروپوں کے اہداف پر حملے کررہے ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو نے 30 ستمبر کو روس کے شام میں فضائی حملوں کے آغاز کے بعد بیس مقامات پر کلسٹرہتھیار استعمال کرنے کے دستاویزی شواہد اکٹھے کیے تھے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے پاس نو مقامات پر کلسٹر بموں کے حملوں کی تفصیل موجود ہے جس کے مطابق ان میں پینتیس شہری ہلاک ہوئے تھے۔ان میں پانچ خواتین اور سترہ بچے شامل ہیں اور دسیوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔