.

عراق: الرمادی سے سیکڑوں شہریوں کا انخلاء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی سے 635 شہریوں کو نکال لیا ہے۔

دو ہفتے قبل عراقی فوج نے الرمادی کو "داعش" کے جنگجوؤں سے آزاد کرانے کا اعلان کیا تھا اور شہر کے وسط میں واقع سرکاری کمپلیکس پر قبضہ کر لیا تھا لیکن وہ ابھی تک تمام شہر پر کنٹرول حاصل نہیں کرسکی ہے۔

عراق کی اسپیشل آپریشن فورس کے کمانڈر میجر جنرل سامی کاظم العارضی کے مطابق اتوار کے روز الرمادی شہر سے نکالے گئے 635 شہریوں کو مشرق میں 23 کلومیٹر دور واقع شہر الخالدیہ میں قائم الحبانیہ کیمپ میں منتقل کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں نے الرمادی کے مشرق میں واقع علاقوں السجاریہ اور الصوفیہ میں ان خاندانوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ بعد ازاں یہ لوگ سفید جھنڈے لہراتے ہوئے سیکورٹی فورسز تک پہنچ گئے۔فوج نے انھیں طبی خدمات کے علاوہ پانی اور خوراک مہیا کی گئی تھی اور پھر کیمپ منتقل کیا گیا۔

العارضی نے مزید بتایا کہ انسداد دہشت گردی فورس اور الانبار پولیس نے داعش کے بارہ ارکان کو گرفتار کرلیا ہے۔یہ جنگجو سیکورٹی فورسز تک پہنچنے والے خاندانوں کے ساتھ راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

دوسری جانب صوبہ الانبار کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا ہے کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے گھریلو ساختہ 250 سے زیادہ دستی بموں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ الرمادی کے شمال میں واقع علاقے البوفراج میں بھی درجنوں دھماکا خیز ڈیوائسز کو تباہ کردیا گیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے الرمادی شہر کے مختلف حصوں میں اور سڑکوں پر ہزاروں بم اور بارودی سرنگیں نصب کردی تھیں جس کی وجہ سے عراقی فوج کو پیش قدمی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

عراقی فوج نے امریکا کے زیر قیادت داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کی فضائی مدد سے الرمادی کے زیادہ تر حصوں کا کنٹرول واپس لے لیا تھا۔تاہم ملک کے سب سے بڑے صوبے کے بیشتر علاقوں پر ابھی تک جہادیوں کا کنٹرول برقرار ہے۔