.

مصری پارلیمان کا ایکشن سے بھرپور پہلا اجلاس

ڈاکٹر علی عبدالعال 44 ویں اسپیکر منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بے ہوشی، بھیڑ اور الجھن،،، یہ تمام چیزیں مصری پارلیمان کے پہلے اجلاس کی نمایاں خصوصیات رہیں جو اسپیکر اور ان کے دو نائبوں کے انتخاب کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 2012 میں عدالت کے حکم کے ذریعے پارلیمان کو برطرف کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد اکتوبر 2015 میں ہونے والے انتخابات کے ذریعے وجود میں آنے والی یہ پہلی اسمبلی ہے۔

پارلیمنٹ کے سب سے عمر رسیدہ رکن بهاء الدين ابوشقہ نے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے آغاز میں ہی خاتون رکن سلوی ابو الوفا بے ہوش ہوگئیں، طبی امداد کی فراہمی اور پہلے حلف اٹھوا کر انہیں آرام کے لیے گھر بھیج دیا گیا۔ بقیہ ارکان کی حلف برداری کے دوران ایک رکن مرتضی منصور نے الفاظ میں اضافہ کرتے ہوئے "میں آئین اور قانون کا احترام کروں گا" کے بدلے "میں آئین (کی شقوں) اور قانون کا احترام کروں گا" بول دیا۔ انہیں آئین کے دیباچے میں 25 جنوری کو (حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی) انقلاب شمار کیے جانے پر اعتراض تھا۔ دوسری جانب النور پارٹی کے رکن احمد شریف نے حلف برداری کے دوران قرآن کریم اٹھا لیا۔

اجلاس کے دوران ایک نومنتخب رکن معتز الشاذلی اپنے والد (سابق رکن پارلیمنٹ) کمال الشاذلی کی نشست پر ایک دوسرے رکن کو بیٹھا دیکھ کر چراغ پا ہوگئے تاہم ان کو دوسری نشست تلاش کرکے وہاں بٹھا دیا گیا۔ ادھر ایک دوسرے رکن ڈاکٹر سمیر غطاس پہلے ہی اجلاس میں اپنے "پارلیمانی استثنا" سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے اسپیکر کے منتخب ہوتے ہی ان کی خدمت میں باقاعدہ درخواست پیش کردی۔ ایک دوسرے رکن محمد بدوی نے اپنی ذاتی گاڑی کو پارلیمنٹ کے اندر لانے کی اجازت نہ ملنے پر اپنی رکنیت سے مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی۔

اس دوران پارلیمنٹ کے اہل کار ارکان پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتے رہے کہ وہ مائیکروفون اور ساؤنڈ سسٹم کے ساتھ نہ کھیلیں تاکہ حلف برداری کی کارروائی میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے موقع پر عمارت کے اطراف سیکورٹی کے سخت انتظامات تھے جس کی وجہ سے وسطی قاہرہ اور اس سے ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کا رش ہوگیا۔

نئے اسپیکر کا تعارف

عین الشمس یونی ورسٹی میں آئینی قانون کے پروفیسر ڈاکٹر علی عبدالعال، مصری پارلیمان کے 44 ویں اسپیکر ہیں۔ مصر کی پہلی پارلیمنٹ آج سے 150 سال قبل الخدیوی اسماعیل (مصر کے پانچویں علوی حکمراں) کے دور میں تشکیل دی گئی تھی۔ علی عبدالعال 29 نومبر 1948 کو پیدا ہوئے۔ سڑسٹھ (67) سالہ پروفیسر کا تعلق جنوبی صوبے اسوان سے ہے تاہم ان کی سکونت اور پرورش قاہرہ میں ہوئی۔

علی عبدالعال نے 1973 میں قانون کے شعبے میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی اور پھر 1984 میں السوربون یونی ورسٹی سے ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔ وہ اپنے کیریئر کے دوران متعدد منصبوں پر فائز رہے۔ ان میں ڈپٹی اٹارنی جنرل، عین الشمس یونی ورسٹی میں جنرل لاء ڈپارٹمنٹ کے سربراہ، پیرس میں مصر کے ثقافتی اتاشی اور کویت کے شاہی دفتر میں آئینی مشیر کے عہدے شامل ہیں۔ ڈاکٹر علی عبدالعال نے 1993 میں ادیس ابابا میں ایتھوپیا کے آئین کا پہلا مسودہ بھی تیار کیا تھا جب کہ مصر کے موجودہ آئین کی تیاری میں بھی وہ شریک رہے۔