.

روس کی جانب سے حزب اللہ کو بھاری ہتھیار ملنے کا انکشاف

لبنان کی شیعہ ملیشیا یمن کے حوثی باغیوں کو عسکری تربیت دے رہی ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والی حزب اللہ ملیشیا کے دو ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کو روس کی طرف سے بھاری ہتھیار فراہم کیے گئے ہیں۔ دونوں کمانڈروں نے (جنھوں نے اپنے اصلی کے بجائے فرضی ناموں کا استعمال کیا) امریکی ویب سائٹ ''ڈیلی بیسٹ''(Daily Beast) سے گفتگو میں بتایا کہ بشار الاسد حکومت، ایران، روس اور حزب اللہ کے درمیان مکمل اتحاد ہے، بالخصوص حزب اللہ کا روس کے ساتھ تعلق ارتقائی منازل طے کر رہا ہے۔

امریکی ویب سائٹ نے بیروت کے جنوب میں واقع نواحی علاقے اور حزب اللہ کے گڑھ "ضاحیہ" میں ان دونوں کمانڈروں کے ساتھ الگ الگ انٹرویو کیے۔ دونوں کمانڈروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے روس سے دور مار کرنے والے راکٹ کے علاوہ بکتربند اور ٹینک شکن ہتھیار بھی حاصل کیے ہیں۔

ان میں ایک کمانڈر نے، جس نے اپنا نام بکر بتایا اور وہ شام میں 200 جنگجوؤں پر مشتمل 5 یونٹوں کی کمان کر رہا ہے، بتایا کہ "روس ہمارا اسٹریٹجک حلیف ہے اور ہمیں ہتھیار فراہم کرہا ہے"۔ بکر کے مطابق وہ اور اس کی ملیشیائیں اللاذقیہ سے ادلب تک اور القلمون کے پہاڑوں میں لڑ رہی ہیں۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ روسی فضائی حملوں نے زمین پر جھڑپوں کے اصول تبدیل کر دیے ہیں۔ اس کے خیال میں اللاذقیہ کے گرد لڑائی ہمارے لیے بہت مشکل تھی تاہم جب روسی مداخلت کا آغاز ہوا تو زمین پر کام آسان ہو گیا۔

بکر نے انکشاف کیا کہ روسی طیارے زمین پر اپنے اہداف کے چناؤ کے لیے حزب اللہ کی انٹیلجنس معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اس امر کی بھی تصدیق کی کہ روس نے اللاذقیہ میں اپنے فوجی تعینات کیے ہوئے ہیں بالخصوص ایئرپورٹ کے گرد جسے ماسکو کے طیارے استعمال کر رہے ہیں۔

بشار الاسد کی طرف سے لڑنی والی جنگجو ملیشیاؤں کے اس کمانڈر نے اعتراف کیا کہ روس 2012 سے حزب اللہ کے لیے اپنی سپورٹ میں اضافہ کر رہا ہے۔ روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے 2014 میں بیروت میں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ سے ملاقات میں خطے کے بدلتے حالات پر تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ روسی نائب وزیر نے گزشتہ نومبر میں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت بوگدانوف کا کہنا تھا کہ ماسکو حزب اللہ کے ساتھ تعلق پر اعتماد رکھتی ہے اور اسے کسی طور دہشت گرد شمار نہیں کیا جا سکتا۔

ڈیلی بیسٹ سے گفتگو کرنے والے دوسرے کمانڈر نے "اسیر" کے فرضی نام سے بات چیت کی۔ وہ شام میں حزب اللہ کے جنگجو یونٹ کی کمان کر رہا ہے ۔ اسیر نے بتایا کہ شام میں روسی اسلحے کے گوداموں کے پہرے کے لیے ماسکو حکومت حزب اللہ کی ملیشیاؤں کے ارکان پر انحصار کرتی ہے، اور تنظیم نے ان ذخیروں کے سامان سے فائدہ بھی حاصل کیا ہے۔

اسیر نے مزید بتایا کہ اس کے جنگجوؤں نے اس جدید اسلحے کے استعمال کے لیے شامی حکومت کی فوج کو تربیت بھی دی ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ روس نے اس اسلحے کے استعمال کے حوالے سے حزب اللہ پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے، یہاں تک کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیل کے خلاف بھی نہیں۔

تاہم امریکی ویب سائٹ نے اس امر کی تصدیق نہیں کی کہ آیا اس کمانڈر کا عہدہ اس معاملے کے حوالے سے خفیہ معاہدوں کی آگاہی حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے یا نہیں۔

کمانڈر بکر کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں 2014 میں (عراقی) حزب اللہ کے بریگیڈز کی تربیتی ذمہ داری میں شریک ہوا تھا۔ اسی طرح 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کی تربیتی میں بھی شامل رہا۔ کمانڈر اسیر نے انکشاف کیا کہ شامی حکومت کے فوجیوں، حوثی باغیوں اور شیعہ عراقی ملیشیاؤں کے لیے حزب اللہ کے باقاعدہ تربیتی پروگرام ہیں۔

امریکی ویب سائٹ کو انٹرویو دینے والے ان دونوں کمانڈروں نے 2006 میں جنوبی لبنان پر اسرائیلی قبضے کے دوران حزب اللہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔