.

سابق ایرانی پولیس چیف حوثیوں کے امور کے انچارج مقرر

احمدی مقدم بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے برطرف کیے گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی حکومت نے یمن میں حکومت مخالف شیعہ حوثی باغیوں کے امور کی نگرانی کے لیے ایک سابق پولیس چیف کو تعینات کیا ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ایران یمن میں اپنی غیرقانونی مداخلت کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تہران سرکار نے سابق پولیس چیف میجر جنرل اسماعیل احمدی مقدم کو ’’یمنی قوم کی معاونتی کمیٹی‘‘ کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حال ہی میں یمن کی صورت حال سے متعلق مجلس شوریٰ[پارلیمنٹ] کے خصوصی اجلاس میں سابق پولیس چیف احمدی مقدم بھی شریک ہوئے۔ اس موقع ایرانی پارلیمنٹ نے عرب ملک یمن میں ایرانی مداخلت کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان نوذر شفیعی کہا کہ یمن کے امور کے نگران کمیٹی کے چیئرمین احمدی مقدم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک یمنی حوثیوں کی معاونت جاری رکھے گا اور حوثیوں کے مطالبات کو عالمی سطح پر اٹھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔

مسٹر شفیعی نے احمدی مقدم کے حوالے سے بتایا ایران کی جانب سے یمن کے لیے امداد ایندھن، غذاء، ادویات اور زخمیوں کے علاج معالجے تک محدود کر رہا ہے۔ تاہم یہ امداد پورے تواتر اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی۔

سابق پولیس چیف کا کہنا تھا کہ یمن میں جاری جنگ ہر آنے والے دن میں زیادہ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور رواں سال 2016ء میں بھی صورت حال بدستور برقرار رہے گی۔

خیال رہے کہ احمد مقدم ایرانی پاسداران انقلاب کے اہم ترین رہ نماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ سنہ 2009ء میں ایران میں سبز انقلاب تحریک کو کچلنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا اور بڑی تعداد میں مظاہرین کو قتل کر دیا تھا۔ سنہ 2009ء میں تہران کے کھریزک جیل میں خواتین کی جبری عصمت دری کے واقعات بھی احمد مقدم کے دور میں وقوع پذیر ہوئے تھے۔

احمدی مقدم پچھلے سال مارچ 2015ء میں اس وقت سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے حکم پرعہدے سے ہٹا دیے گئے تھے جب پولیس پر مالی بدعنوانی کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔ ایرانی انٹیلی جنس نے احمدی مقدم سمیت پولیس کے 12 اہم افسران کو حراست میں لیا تھا۔ انٹیلی جنس اداروں نے دو روز تک پولیس کے ادارے کی جانب سے قریبا ایک ارب ڈالر کی رقم کے مساوی کرپشن کے الزامات کی تحقیق کی تھی۔