.

محمد بن سلمان اور " تھیچری"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی اکانومسٹ میگزین سے گفتگو نے عالمی سطح پر وسیع بحث وجدل کا دروازہ کھول دیا ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ یہ عرب دنیا کی سب سے بڑی اور اہم معیشت کے متعلق ہے، علاوہ ازیں سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا اور عالمی منڈیوں میں بڑی حیثیت رکھنے والا ملک ہے۔

"اکانومسٹ" میگزین نے سعودی عرب کی جانب سے جاری اقتصادی تبدیلیوں کو "تھیچری" قرار دیا ہے، اور یہ وہ اصطلاح ہے جو بہت سے عرب جائزہ کاروں کو سمجھ نہیں آسکی۔ بہرکیف لندن یونی ورسٹی میں معیشت کے ایک پروفیسر نے العربیہ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ محمد کے ذہن میں گردش کرنے والی چیزوں کی اہمیت اور سعودی عرب میں حالیہ اقتصادی اصلاحات کی اہمیت کی جانب اشارہ کیا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے اکانومسٹ میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب آئندہ مہینوں کے دوران ارامکو کمپنی کو (جو دنیا میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی ہے) اسٹاک مارکیٹ میں رجسٹر کرانے سے متعلق فیصلہ صادر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ انکشاف غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مملکت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ براہ راست شکل میں سعودی اسٹاک ایکسچینج کے دروازے کھولے جانے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ بہت سے مبصرین نے اس کو بالغ نظری پر مبنی پیغام قرار دیا ہے۔

امور معیشت کے ماہر اور لندن یونی ورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ناصر قلاوون نے، میگزین کے ایک سوال کے جواب میں شہزادہ محمد کی "تھیچری" سے متعلق گفتگو کی تشریح بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد "مملکت کی معیشت میں بنیادی تبدیلیوں کا اعلان" ہے۔ ڈاکٹر قلاوون کے مطابق سعودی شہزادے نے جو اصطلاح استعمال کی اس سے ان کا اشارہ سابق برطانوی وزیراعظم اور "آہنی خاتون" کا خطاب پانے والی مارگریٹ تھیچر کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کی جانب تھا۔ ان اصلاحات نے برطانوی معیشت کی صورت ہی تبدیل کر دی تھی اور معیشت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی معاشی حالات میں بھی بڑے پیمانے پر بہتری سامنے آئی تھی۔

اس "آہنی خاتون" نے 1979 سے 1990 تک برطانیہ میں حکومت کی۔ اس دوران وسیع پیمانے پر اقتصادی اصلاحات دیکھنے میں آئیں جن میں بہت سے سیکٹروں کو ریاست کی براہ راست سپورٹ میں اضافہ شامل ہے۔ ان اقدامات کا نتیجہ معیشت کی بحالی اور لوگوں کے حالات میں بہتری کی صورت میں سامنے آیا، جو کہ خاتون وزیراعظم پر تنقید کرنے والوں کی توقعات کے برخلاف تھا۔ قلاوون نے بتایا کہ مارگریٹ تھیچر نے برطانیہ اور اس کے بیرون سے سرمایہ کاروں کو ان سرکاری سیکٹروں میں سرمایہ کاری کے لیے کھینچ لیا جن کا انتظام ریاست کے پاس تھا اور وہ شعبے مالی خسارے کا شکار تھے۔ ساتھ ہی وہ ان سیکٹروں کی نجکاری کے ذریعے انہیں کامیاب اور منافع بخش سیکٹروں میں بدلنے میں کامیاب ہوگئیں۔

ڈاکٹر قلاوون نے العربیہ نیٹ سے گفتگو میں مزید بتایا کہ یہ "تھیچری" (اصلاحات) ہی تھیں جنہوں نے پرائیوٹ سیکٹر کو فعالیت اور منافع کے حوالے سے معیشت کا بنیادی محرّک بنا دیا۔

قلاوون کے مطابق سعودی عرب حالیہ وقت میں خدمات کی کوالٹی بہتر کرنے پر کام کر رہا ہے، اور اسی دوران مملکت یہ چاہتی ہے کہ شہریوں کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں معیشت کے لیے منافع بخش اور فائدہ مند ثابت ہوں ناکہ معیشت پر بوجھ۔ اسی ضمن میں سعودی حکومت نے توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ وہ تیل کی بڑی کمپنی ارامکو کی نجکاری کے درپے ہے۔

ڈاکٹر قلاوون کا کہنا ہے کہ شہزادہ محمد نے واضح کر دیا ہے کہ "اصلاحات میں بنا کسی استثناء کے تمام اقتصادی شعبوں اور کمپنیوں کو شامل کیا جائے گا"۔

واضح رہے کہ سعودی اسٹاک مارکیٹ 2015 کے درمیان سے سرمایہ کاری کے بڑے غیرملکی فنڈز کے لیے کھول دی گئی ہے۔