.

ایرانی عہدیدار نے جیبوتی کے نقشے کا تمسخر کیوں اڑایا؟

جیبوتی کے ریاض سے تعلقات ایران کے لیے پریشانی کا موجب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے سعودی عرب کے قریب ہونے والے کسی بھی ملک کو ایران میں طنز و تنقید اور تمسخر کا نشانہ بنانا ایک عام روایت ہے۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایران کے سابق وزیرخارجہ اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے موجودہ مشیر علی اکبرولایتی کی ایک تصویر سخت تنقید کی زد میں ہے۔ اس تصویر میں مسٹر ولایتی کو دنیا کانقشہ اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔ موصوف اس تصویر میں دنیا کے نقشے میں جیبوتی کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کے چھوٹے رقبے پر طنزیہ شعر کہتے پائے گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مسٹرعلی اکبر ولایتی کے اس متنازع اقدام پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں قرن افریقا کے ملک جیبوتی رقبے کے اعتبار سے کوئی بڑا ملک نہیں۔ اس کا کل رقبہ 23000 مربع کلو میٹرہے، مگر دنیا کے نقشے پر رقبے کے اعتبار سے جیبوتی سے بھی چھوٹے ممالک موجود ہیں۔ انہی میں لبنان بھی ہے جس کا کل رقبہ 10 ہزار 452 مربع کلو میٹر ہے۔ چونکہ لبنان کا مذاق اس لیے نہیں اڑایا جا سکتا کیونکہ یہ ایران کا مشرق وسطیٰ اور دوسرے عرب ممالک میں داخلے کا دروازہ ہے۔ وہاں ایران کی دکھ درد کی ساتھی حزب اللہ قائم ہے۔ اس لیے علی اکبر ولایتی کو جیبوتی کا چھوٹا پن زیادہ دور سے دکھائی دیا ہے۔

جیبوتی اس لیے بھی تمسخر کا نشانہ بنا کیونکہ وہ پچھلے کئی سال سے سعودی عرب بلاک میں ہے۔ جب سے یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن شروع ہوا ہے تب سے جیبوتی بھی ریاض کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہے اور یہ بات تہران کو کسی قیمت پر گوارا نہیں ہے۔

سعودی عرب اور جیبوتی کے درمیان فروغ پذیر سیاسی، اقتصادی، سیاحتی اور سیکیورٹی تعلقات بھی ایران کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہیں۔

قرن افریقا کا اہم ملک ہونے کے ساتھ ساتھ جیبوتی کی عالمی اور علاقائی جغرافیائی، تزویراتی اور جیو پولیٹیکل اہمیت ہے اور ایران اس کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ باب المندب بندرگاہ کے ایک طرف واقع ہونے کی وجہ سے پورے افریقا کے لیے وہاں سے گذرنے والی آبی ٹریفک جیبوتی سے ہو کر گذرتی ہے۔ افریقی ممالک سے آنے والے بحری جہاز نہرسویز تک پہینچنے کے لیے جیبوتی کے سمندر سے گذرتے ہیں۔ یوں جیبوتی تین براعظم کے سنگھم پر واقع ہونے کی وجہ سے عالمی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ جیبوتی کی سعودی عرب سے قربت ہی ایران کی پریشانی کا موجب ہے۔

جیبوتی کی علاقائی اور عالمی اہمیت کے حوالے سے سعودی عرب میں متعین جیبوتی کے سفیر ضیاء الدین باخرمہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں[سعودی عرب اور جیبوتی] کے درمیان ہر شعبہ ہائے زندگی میں گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ جیبوتی کی جغرافیائی اہمیت، باب المندب کے قریب واقع ہونے، نہر سویزکی ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور تین براعظم کو باہم ملانے کی بدولت جیبوتی قرن افریقا کا اہم ترین ملک ہے۔