.

ایران کا تربیتی طیارہ بحر اومان کے قریب گر کر تباہ

حادثے میں عملے کے تمام افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کا ایک چھوٹا فوجی طیارہ تربیتی پرواز کے دوران بحر اومان کے قریب جاہ بہار بندرگاہ کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے میں طیارے میں سوار ہوا باز اور اس کا معاون دونوں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی’’تسنیم‘‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ ایران کے معیاری وقت کے مطابق دن 11:45 پر پیش آیا۔ خبر رساں ایجنسی نے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے نارے مزید تفصیلات نہیں بتائیں تاہم خبر رساں ایجنسی کی جانب سے امریکی ساختہ ’’ایف 4‘‘ فینٹوم طیارے کی تصویر پوسٹ کی گئی ہے۔ فوجیوں کی تربیت کی غرض سے امریکا میں یہ طیارے سنہ 1970ء کے عشرے میں بنائے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق حادثے کے نتیجے میں عملے کے تمام افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

ایران کے تمام ذرائع ابلاغ نے حادثے کے حوالے سے صوبہ سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر علی اصغر میرشکاری کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ تربیتی طیارے کے حادثے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکی ہیں تاہم متعلقہ حکام نے اس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’ایف 4‘‘ نامی تربتی طیارہ منگل کو مسلح افواج کے’’کنارک‘‘ کے مقام پر قائم 10 ویں فوجی اڈے سے فضاء میں اڑا اور 20 منٹ کی پرواز کے بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ ممکنہ طورپر طیارے کا حادثہ کسی فنی خرابی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

ایرانی عہدیدار علی اصغر میر شکاری کا کہنا ہے کہ ہواز باز نے تیارے کو ایک مرکزی شاہراہ پر اتارنے کی کوشش کی مگرگاڑیوں کی کثرت کی بناء پر وہ طیارے کوسڑک پر اتارنے میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔

خیال رہے کہ ایران میں ولایت فقیہ کے انقلاب سے قبل رضا شاہ پہلوی ے دور حکومت سنہ 1967ء میں امریکا سے ’’ایف 4‘‘ ماڈل کے کل 225 طیارے خریدے گئے تھے۔ ان میں ’’ایف 4D‘‘ ماڈل کے 16 اور’’ایف 4E‘‘ ماڈل کے 16 طیارے بھی شامل تھے۔ سنہ 1968ء میں امریکا نے تہران کو ایف 4E ماڈل کے مزید 177 طیارے فروخت کیے تھے۔ ایران میں ما بعد انقلاب عراق۔ یران جنگ کے دوران بھی تہران کو RF-4E جاسوس طیارے مہیا کیے گئے تھے۔

پانچ جون 1984ء کو اسی ماڈل کے دو طیارے سعودی عرب کی فضاء میں داخل ہونے پر مار گرائے تھے جب کہ ایک طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا تاہم پائلٹ اسے واپس بھگا لے گیا تھا۔