.

حزب اللہ رہ نما نے شام میں قحط کو من گھڑت قرار دے دیا

ستم رسیدہ لوگوں کا تمسخر اڑانے کی مذموم حرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی کی شیعہ ملیشیا #حزب_اللہ کے ایک بانی رُکن اور سرکردہ شیعہ عالم دین نے شام میں قحط اور بھوک کا شکار خواتین اور بچوں کا مذاق اڑاتے ہوئے #مضایا میں قحط کو ذرائع ابلاغ کی ’’اختراع‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حزب اللہ کے بانی لیڈر الشیخ #عفیف_النابلسی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ #شام کے شہر مضایا میں بچوں اور خواتین کا بھوک اور بیماریوں کےباعث موت کا شکار ہونے کی تمام کہانیاں من گھڑت ہیں جنہیں ذرائع ابلاغ نے مبالغہ آرائی کی حد تک اچھال رکھا ہے

الشیخ النابلسی کا کہنا تھا کہ مضایا میں قحط سے بچوں اور خواتین سمیت سیکڑوں شہریوں کی اموات کی باتیں بالکل من گھڑت ہیں۔ میڈیا میں مضایا کے متاثرین کے حوالے سے جوبھی خبریں آ رہی ہیں وہ سب بے بنیاد ہیں۔

حزب اللہ کے بانی لیڈرنے ان خیالات کا اظہار لبنانی اخبار ’’البناء‘‘ میں لکھے گئے ایک مضمون میں کیا ہے۔

خیال رہےکہ شام کے دارالحکومت #دمشق کےنواحی علاقے’’مضایا‘‘ میں پچھلے ایک سال سے زاید عرصے سے محاصرے کے باعث لوگ بھوک اور بیماریوں کے نتیجے میں لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی مضایا میں بھوک اور افلاس کا شکار انسانی ڈھانچوں کی چند تصاویر شایع کی ہیں۔ مضایا اس وقت پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کا موضوع ہے مگر صدر #بشار_الاسد اور ان اجرتی قاتل حزب اللہ مضایا میں رونما ہونے والے انسانی المیے پردانستہ آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ شامی فوج اور حزب اللہ کےدہشت گردوں نے پچھلے تین سال سے مضایا کا محاصرہ کررکھا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں محصور افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔