.

کویت اور مکہ کے دہشت گرد باہمی رشتے دار نکلے

العبدلی گروپ کے خلاف عدالتی فیصلے نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں حزب اللہ کے مقامی نظم سے وابستہ العبدلی گروپ کے دہشت گرد سیل کے الحرم المکی کے اس سزا یافتہ دہشت گرد سیل سے خاندانی روابط کا انکشاف ہوا ہے جسے 1988 میں سعودی حکام نے حراست میں لیا گیا تھا۔

کویتی حزب اللہ کے خلاف جاری ہونے والے حالیہ عدالتی فیصلے کے مطابق العبدلی سیل کے دو ارکان محمد اور عبداللہ الحسینی دراصل سعودی عرب کے حرم مکی دہشت گرد سیل کے حسن عبدالجلیل الحسینی کے بیٹے ہیں۔ حسن عبدالجلیل الحسینی کو حال ہی میں 47 دیگر دہشت گردوں کے ہمراہ سزائے موت دی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ کویتی حزب اللہ کا رکن زھیرعبدالھادی حرم مکی دہشت گرد سیل کے حسن المحید کا چچیرا بیٹا ہے۔ حسن المحید بھی ان 47 دہشت گردوں میں شامل تھا جنہیں چند دن پہلے سعودی عرب میں سزائے موت دی گئی۔

ادھر کویت کے العبدلی دہشت گرد سیل کے خلاف عدالتی فیصلے میں متعدد بار اس امر کا ذکر ملتا ہے کہ خلیجی ریاست کویت میں ایرانی سفارتخانے کے کلچرل اتاشی سزا پانے والے مجرموں کی مدد کیا کرتے تھے۔ ایرانی سفارتخانے کے فرسٹ سیکرٹری سزا پانے والے مجرموں کو گولا بارود کی سمگلنگ اور استعمال کی تربیت دیا کرتے تھے۔ یہ کام سفارتخانے کے کلچرل مشیر سید ابو فاضل اردکانی کی وساطت سے سرانجام دیا جاتا تھا۔