.

"یرغمال قطریوں کی بازیابی عراق کی ذمے داری ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے وزیر خارجہ خالد العطیہ نے کہا ہے کہ عراق میں قریبا ایک ماہ قبل اغوا کیے گئے چھبیس قطری شکاریوں کو بازیاب کرانا بغداد حکومت کی ذمے داری ہے۔

وہ بدھ کے روز دارالحکومت دوحہ میں انسانی حقوق کے موضوع پر منعقدہ ایک کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''یرغمال بنائے گئے شکاریوں کی رہائی کے لیے قطر بغداد حکومت سے رابطے میں ہے''۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ ان یرغمالیوں میں قطر کے شاہی خاندان کے بعض افراد بھی شامل ہیں۔

خالد العطیہ نے کہا کہ ''ہم عراقی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے کام کر رہے ہیں، میرے خیال میں انھیں (عراقی حکومت کو) یہ ذمے داری قبول کرنی چاہیے''۔انھوں نے بتایا کہ ان قطریوں کو عراقی حکومت نے شکار کے لیے اجازت نامے جاری کیے تھے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ پُراعتماد ہیں کہ شکاریوں کو رہا کردیا جائے گا تو انھوں نے کہا:"ان شاء اللہ''۔ خالد العطیہ سے قبل خلیج تعاون کونسل بھی عراق سے ان قطری شکاریوں کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کرچکی ہے۔ تاہم عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ عراق کے سعودی عرب کی سرحد کے نزدیک واقع صحرائی علاقے سے دسمبر میں نامعلوم مسلح افراد نے چھبیس قطری شہریوں کو ان کے شکار کیمپ سے اغوا کر لیا تھا۔ اغوا کار دس بارہ پک اپ ٹرکوں پر سوار ہو کر آئے تھے اور قطری شکاریوں کو کسی نامعلوم مقام کی جانب لے گئے تھے۔تب سے ان کے بارے میں کچھ اطلاع نہیں ہے کہ انھیں کہاں رکھا جا رہا ہے اور نہ اغوا کاروں کا کوئی مطالبہ سامنے آیا ہے۔

عراق میں قطری شہریوں کے اغوا کا یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا تھا جب قطر اور عراق کے درمیان شامی تنازعے کے تناظر میں کشیدگی پائی جارہی تھی۔ قطر شامی صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے باغیوں کی حمایت کررہا ہے جبکہ عراق نے سرکاری طور پر تو کوئی واضح موقف تو اختیار نہیں لیکن ملک کی غالب شیعہ آبادی شامی صدر کی حمایت کر رہی ہے۔