.

ایرانی ٹی وی کا کمال، بات کا بتنگڑ بنا دیا‘

بحریہ اہلکار کے بیان کا غلط ترجمہ ٹی وی پر نشر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے سرکاری ٹی وی چینل پر دو روز قبل یرغمال بنائے گئے امریکی بحریہ کے اہلکاروں میں سے ایک کا بیان نشر کیا گیا جس میں امریکی اہلکار کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر اس کا غلط مفہوم نشر کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ امریکیوں نے ایران کی سمندری حدود میں داخل ہونے پر معافی مانگی حالانکہ امریکی عہدیدار کے بیان میں معافی کا کوئی اشارہ تک نہیں تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ٹی وی پر نشر کیے گئے امریکی بحریہ کے اہلکار کا فارسی میں ترجمہ نشرکیا گیا مگر پس منظر میں اس کی انگریزی میں ہونے والی گفتگو نے ٹی وی کی جعل سازی کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ امریکی عہدیدار کے انگریزی میں سنائے دینے والے الفاظ میں صاف سانئی دے رہا تھا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ’ ہم غلط فہمی کے نتیجے میں ایران کی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے‘ جب کہ ٹی وی پراس کا ترجمہ یوں نشتر کیا گیا کہ ’’ہم سے غلطی ہوئی کہ ہم ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے، ہم اپنی اس غلطی پر معذرت خواہ ہیں‘‘۔ ایرانی ٹی وی کے نامہ نگار کے بہ قول یہ بیان یرغمال بنائی گئی ایک فوجی کشتی کے کتپان کا ہے جنہیں ایک دن حراست میں رکھنے کے بعد تہران حکومت نے رہا کر دیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ ایران نے یرغمال بنائے گئے 10 امریکی فوجیوں کو جلد بازی میں رہا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ کہ ایران پچھلے سال اپنے متنازع جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے کے بعد امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوجیوں کو اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کے باوجود رہا کر دیا ہے۔