.

جزیرہ گوانتامو کے 10 سابق قیدی اومان پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#گوانتاناموبے میں قائم امریکی حراستی مرکز کے 10 سابق قیدی اور یمنی شہری جمعرات کے روز #مسقط پہنچ گئے۔ اومانی وزارت خارجہ کے مطابق ان افراد کو ’عارضی‘ طور پر وہاں رکھا جائے گا۔

سلطنت آف #اومان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'او این اے' نے وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اومان نے ان افراد کو ’’امریکی انتظامیہ کی طرف سے ملنے والی ایک درخواست کے رد عمل کے طور پر قبول کیا ہے، جس کا مقصد گوانتانامو بے میں زیر حراست لوگوں کا مسئلہ حل کرنا ہے۔‘‘ اس بیان میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

امریکا، گوانتانامو کے حراستی مرکز میں موجود قیدیوں کو دیگر ممالک کو منتقل کر رہا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کیوبا میں قائم اس جیل کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ گوانتامو کے اس مرکز کے قیدیوں کی تعداد میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض قیدیوں کو ان کے اپنے ہی ملکوں میں بھیجا جا رہا ہے۔

رواں ہفتے گوانتانامو کے ایک قیدی کو سعودی عرب بھی واپس بھیجا گیا ہے جہاں وہ ملک کی طرف سے عسکریت پسندوں کے لیے چلائے جانے والے بحالی کے ایک پروگرام میں شریک ہو گا۔ نو جنوری کو گوانتانامو کے کویت سے تعلق رکھنے والا آخری قیدی بھی 14 برس کے بعد وطن لوٹا تھا جہاں اس کے خاندان نے اسے خوش آمدید کہا۔

گزشتہ برس نومبر میں پینٹاگون کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ گوانتامو سے پانچ قیدیوں کو متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا تھا۔ اس وقت اس حراستی مرکز میں 40 سے زائد قیدی موجود ہیں اور پینٹاگون ایسے ممالک کی تلاش میں ہے جو انہیں اپنے ہاں قبول کرنے کو تیار ہوں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق یمن سے ہے جو القاعدہ کی خطرناک ترین شاخ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ملک چونکہ خانہ جنگی کا شکار ہے اسی باعث یمنی قیدیوں کو ان کے اپنے ملک بھیجنا ممکن نہیں ہے۔