.

داعش کے پروپیگنڈے میں معاونت،’’ٹوئٹر‘‘ کے خلاف مقدمہ

مقتول امریکی پولیس اہلکار کی بیوہ عدالت جا پہنچیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند گروپوں کی جانب سے اپنی تعلیمات کی تبلیغ وتشہیر کے لیے سوشل میڈیا کو بہ طور ٹول استعمال کرنے کی خبریں کوئی نئی بات نہیں مگر مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ’’ٹوئٹر‘‘ کو پہلی بار شدت پسند گروپ’’داعش‘‘ کو پروپیگنڈے کا پلیٹ فارم مہیا کرنے پر قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب ٹیوٹر نے دہشت گردی کی معاونت کا الزام مسترد کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’’ٹیوٹر‘‘ کے خلاف مقدمہ ایک امریکی شہری کی بیوہ نے ریاست فلوریڈا کی عدالت دائر کیا ہے۔ مدعیہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ’’ٹوئٹر‘‘ نے داعش کو اپنے شدت پسندانہ خیالات کی تشہیر کے لیے ایک فورم مہیا کیا اور یوں ٹیوٹر بالواسطہ طور پر اس کے شوہر کے قتل کا موجب ٹھہرا ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ٹیوٹر‘‘ نے داعش کو اپنے سخت گیر خیالات کو دوسروں تک پہنچانے، اپنی صفوں میں جنگجو بھرتے کرنے اور فنڈز جمع کا موقع فراہم کیا۔

امریکی شکایت کندہ کا کہنا ہے کہ ’’ٹوئٹر‘‘ جیسے سماجی رابطے کے آلات دہشت گردی کے طوفان کی شدت بڑھانے کا موجب بن رہے ہیں۔ سوشل میڈیا دور حاضر میں دہشت گردوں کا ایک دوسرے سے رابطوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کو اپنے چنگل میں پھنسانے کا آسان ذریعہ ہے۔ ٹیوٹر کے ذریعے داعش اپنے شدت پسندانہ خیالات کی تبلیغ و تشہیر نہ کرتی نومبر 2015ء کو اردن میں اس کا شوہر دہشت گردی کے حملے کا نشانہ نہ بنتا۔

خیال رہے کہ پچھلے سال نومبر میں اردن کے دارالحکومت عمان میں قائم ایک پولیس ٹریننگ سینٹر میں ایک مقامی پولیس اہلکار نے فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں ایک امریکی ٹرینر اور ایک جنوبی افریقا کا پولیس عہدیدار ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس کی فائرنگ سے حملہ آور بھی ہلاک ہو گیا تھا تاہم تاحال اس واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

البتہ امریکا کی ایک وفاقی عدالت میں دائر مقدمہ میں امریکی پولیس اہلکار کی بیوہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے شوہر کو داعش سے متاثر شخص نے قتل کیا اور داعش کو اپنی سرگرمیوں کی تشہیر کے لیے ’’ٹوئٹڑ‘‘ نے موقع فراہم کیا تھا جو بالواسطہ طور پر اس کے شوہر کے قتل کا قصور وار ہے۔

دوسری جانب ’’ٹیوٹر‘‘ نے امریکی خاتون کی طرف سے مقدمہ کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی ہے اس طرح کے کیسز کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ٹیوٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا کے انتہا پسند گروپوں سے ہم خود بھی براہ راست متاثر ہیں اور انٹرنیٹ پر دہشت گردوں کی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیوٹر پردہشت گردی اور انتہا پسندی کی تبلیغ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہمارے قواعد وضوابط سب کے سامنے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیوٹر کی جانب سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو شدت پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث اکاؤنٹس کی نشاندہی کر کے انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے انہیں بلاک کر رہی ہے۔ اس لیے کسی فرد یا ادارے کی جانب سے ٹوئٹر پر بنیاد پرستی کے فروغ میں معاونت کا الزام بے بنیاد ہے۔