.

اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں فلسطینی اہلکار گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی حکام نے اعلیٰ مذاکرات کار صاَئب عریقات کے دفتر کے عملے کے ایک رکن کو اسرائِیل کو خفیہ دستاویزات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

فلسطینی حکام نے اتوار کے روز اپنی شناخت ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بتایا ہے کہ اس گرفتار شخص نے اسرائیلیوں کو معلومات فراہم کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔انھوں نے اس مشتبہ شخص کے بارے میں مزید بتایا ہے کہ وہ گذشتہ بیس سال سے فلسطینی اتھارٹی کے شعبہ مذاکرات میں کام کررہا تھا۔

صائب عریقات اور ان کے دفتر نے اس معاملے پر کوئی بیان جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکریٹری جنرل بھی ہیں۔وہ فلسطینی اتھارٹی کے سرکردہ عہدے داروں میں سے ایک ہیں۔اب ان کے دفتر میں ایک جاسوس کی موجودگی کے انکشاف سے خود ان کی حیثیت اور مذاکرات کار کے طور پر کردار متاثر ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی قانون کے تحت اسرائیل یا کسی دوسرے ملک کے لیے جاسوسی، قتل اور منشیات کی اسمگلنگ کے جرائم کی سزا موت ہے۔ان مجرموں کو پھانسی دی جاتی ہے یا پھر گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے تحت ایک فوجی عدالت نے گذشتہ بدھ کے روز چار فلسطینیوں کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جُرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔