.

شام : داعش نے دیرالزور سے 400 شہریوں کو اغوا کر لیا

یرغمالیوں میں سنی جنگجوؤں کے خاندانوں کے ارکان،خواتین اور بچے شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شام کے مشرقی شہر دیرالزور میں ایک حملے کے بعد مزید علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے کم سے کم چار سو شہریوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے ہفتے کے روز دیرالزور کے علاقے آل بغلیہ میں حملہ کیا تھا اور انھوں نے اس کے علاوہ اس کے شمال مغرب میں واقع نواحی علاقوں سے مردوں ،خواتین اور بچوں کو اغوا کر لیا ہے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ اغوا کیے گئے تمام افراد اہل سنت ہیں۔ان میں خواتین،بچے اور حکومت نواز جنگجوؤں کے خاندانوں کے ارکان شامل ہیں اور انھیں داعش نے اپنے زیر قبضہ دوسرے علاقوں میں منتقل کردیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤًں کے ہفتے کے روز شہر پر حملے میں پچاسی شہری اور پچاس شامی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔شام کے سرکاری میڈیا نے اس قتل عام کی مذمت کی ہے۔سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے علاقے کے مکینوں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ داعش کے حملے میں کم سے کم تین سو شہری مارے گئے تھے۔

اگر اس خبر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ آبزرویٹری کے مطابق داعش کی پیش قدمی کے بعد دیرالزور شہر کے 60 فی صد حصے پر ان کا کنٹرول ہوگیا ہے۔

ادھر شمالی صوبے حلب میں بھی داعش اور شامی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے اور اس میں سولہ جنگجو مارے گئے ہیں۔داعش کے مضبوط گڑھ الرقہ پر لڑاکا طیاروں نے بمباری کی ہے۔