.

شام: داعش کے حملوں میں 85 شہریوں سمیت 135 افراد ہلاک

روسی فضائیہ کے اپوزیشن کے ٹھکانوں پر 50 فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران دولت اسلامی’’داعش‘‘ کہلوانے والی انتہا پسند تنظیم کے حملوں میں مشرقی شہر دیر الزور میں 85 عام شہریوں سمیت 135 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق انسانی حقوق آبزرویٹری نے اپنی رپورٹ بتایا ہے کہ مشرقی شہر دیر الزور میں داعش کے حملے میں کم سے کم ایک سو پینتیس افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حلب شہرمیں شام کی سرکاری فوج نے معاون ملیشیا کے تعاون سے کئی دیہات پر قبضے کے لیے نئی فوجی کارروائی شروع کی ہے۔ شامی فوج کویرس فوجی اڈے کو ملانے والی شاہراہ کو کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حلب کے بعض دیہات سے داعش کی پسپائی کے بعد شامی فوج کو آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے جس کے بعد شامی فوج ملک کے اقتصادی مرکز کہلوانے والے شہر پر قبضے کے لیے پرتول رہی ہے۔

ادھر شامی اعتدال پسند اپوزیشن کی نمائندہ جیش الحر کے سربراہ جنرل احمد بری کا کہنا ہے کہ اسدی فوج حلب میں میں عفرین، نبل ، الزھراء اور باشکوی نامی محاذوں پر اپنی قوت مجتمع کر کے ایک نئے حملے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انقلابی کارکنوں نے الحرش، خان طومان، جنوبی اور مغربی حلب کے مورچوں پر شامی فوج کے متعدد حملے پسپا کر دیے ہیں۔

شام کے محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حلب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں روسی فوج کے جنگی طیاروں نے اپوزیشن ٹھکانوں پر 50 سے زاید فضائی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد عام شہریوں سمیت کئی جنگجو مارے گئے ہیں۔

حلب میں روسی فوج نے ایک ایسے وقت میں فضائی حملوں میں تیزی لائی ہے جب دو روز قبل اپوزیشن فورسز نے گھمسان کی لڑائی کے بعد غزل الخلفتلی اور الناصریہ کے مقامات پر قبضہ کرتے ہوئے شامی فوج کو وہاں سے نکال باہر کیا تھا۔

اس وقت حلب شام میں اپوزیشن گروپوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ شامی فوج روسی فضائیہ کی بمباری کے سائے میں شہر کے مختلف اطراف میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شہر کے جنوبی علاقوں میں اسدی فوج اور اس کے حامی جنگجوؤں نے پیش قدمی کی ہے۔

شامی فوج ادلب کے جنوبی قصبوں کفریا اور الفوعہ پر قبضے کی کوشش کرتے ہوئے ان دونوں کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اللاذقیہ میں اسدی فوج اور اس کے مخالف گروپوں کے درمیان لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ شامی فوج نے جنل الترکمان کی سمت سے باغیوں کے مورچوں پر قبضے کی کوشش کی ہے تاہم انقلابی فورسز نے جوابی کارروائی میں سرکاری فورسز کے حملے پسپا کر دیے ہیں۔ تل طعموما اور دغدغان قصبے پر قبضے کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی ہے۔