.

امدادی کاموں کے باوجود مضایا میں فاقہ کشی سے ہلاکتیں جاری

ایک ہفتے میں مزید پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے محصور علاقے مضایا میں فاقہ کشی کا شکار لوگوں کو خوراک پہنچانے کی کوششوں کے باوجود لوگوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق دمشق کے نواحی علاقے مضایا میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران مزید 6 افراد بھوک اور بیماریوں کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مضایا میں اشیائے خورو نوش کی قیمتیں بدستور آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اگرچہ امدادی کاموں کی شروعات ہوئی ہیں مگر اس کے باوجود بسکٹ کا ایک پیکٹ 15 ڈالر اور دودھ فی کلو 313 ڈالر میں فروخت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے زیراہتمام دو امدادی قافلے مضایا پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں مگر ان کی آمد سے کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑا ہے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ماہ میں 32 شہری فاقہ کشی سے ہلاک ہوئے۔ ایک ہفتے کے دوران دو امدادی قافلے خوراک کا سامان لے کر مضایا پہنچے۔ مگر دو قافلوں کے ذریعے لائی گئی امداد بھی ناکافی ہے کیونکہ مضایا میں قحط کے شکار لوگوں کی تعداد 42 ہزار سے زیادہ ہےجن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔

’یو این‘ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہزاروں افراد کے فوری طبی معائنے اور انہیں ضروری طبی امداد کی فراہمی کی ضرورت ہے مگر عالمی ادارہ صحت اور شامی ہلال احمر صرف 10 افراد کی جانیں بچانے میں مدد کر سکے ہیں۔ گیارہ جنوری کے بعد مضایا میں امدادی کاموں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا مگر اس کے باوجود 5 افراد کی زندگیاں نہ بچائی جا سکیں اور وہ خوراک کی قلت کے باعث سسک سسک کر زندگی کی بازی ہار گئے۔

عالمی ادارے کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ نے 2015ء کے دوران مضایا اور دیگر محاصرہ زدہ شہروں تک امدادی کاموں کی بحالی کے لیے سات بار شامی حکومت سے اجازت مانگی۔ پچھلے سال اکتوبر میں 20 ہزار افراد کو امداد پہنچانے کی اجازت ملی۔ شامی حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد 11اور 14 جنوری کو بھی امدادی سامان مضایا پہنچائے گئے۔ گیارہ جنوری کے بعد مضایا میں پھنسے 50 افراد وہاں سے دوسرے مقامات پر منتقل ہو گئے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے کارکن گذشتہ ہفتے شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے مضایا میں داخل ہوئے۔ امدادی کارکنوں کو ایک ایسے وقت میں مضایا پہنچایا گیا جب یہ خبریں بھی عام تھیں کہ شامی فوج نے مضایا کے اطراف میں پچھلے سال ستمبر میں بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔ تاکہ وہاں پر محصور لوگ نقل مکانی نہ کر سکیں۔ فاقہ کشی کے شکار محصورین نے کھانے پینے کی تلاش کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کیے تو کئی افراد بارودی سرنگوں کی زد میں آ کر ہلاک اور زخمی ہو گئے۔