.

ایران کا تیل کی یومیہ پیداوار 5 لاکھ بیرل کرنے کا فیصلہ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود ایران نےعالمی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی تیل کی پیداوار غیرمعمولی پیمانے پر بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ تیل کی پیداوار میں روزانہ 5 لاکھ بیرل بڑھانے کرنے کا حکم دیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بھی ایران پانچ لاکھ بیرل تیل یومیہ فروخت کرے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی وزارت پٹرولیم کی ویب سائٹ’’شانا‘‘ کی جانب سے پٹرولیم کے نائب وزیر رکن الدین جوادی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ایران نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے علی الرغم تیل کی فروخت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ سوموار کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت سنہ 2003ء کے بعد کم ترین سطح پر آ گئی تھی، تاہم شام تک عالمی مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمت میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے بعد مارکیٹ 29.50 ڈالر فی بیرل کی قیمت پر بند ہوئی۔ ایرانی میڈیا کی جانب سے نقل کردہ نائب وزیرپٹرولیم جوادی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ملک تیل عالمی پابندیاں اٹھنے کے بعد ان کے ملک نے تیل کی یومیہ پیداوار پانچ لاکھ بیرل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی نمائندہ تنظیم ’’اوپیک‘‘ کا کہنا ہے کہ تنظیم کے غیر رکن ممالک کے ہاں تیل کی پیداوار میں کمی کے ساتھ ساتھ ان ملکوں کو خام تیل کی قیمتوں میں رواں سال بھی کمی کا سامنا رہے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’اوپیک‘‘ کے پلیٹ فارم سے باہر تیل کی فروخت رواں سال یومیہ 6 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ کم ہو سکتی ہے۔ پچھلے ماہ اوپیک کے غیر رکن ممالک کے تیل میں روزانہ 3 لاکھ 80 ہزار بیرل کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا کی اوپیک میں شمولیت کے بعد دسمبر میں اوپیک ممالک کے تیل کی یومیہ پیداوار میں 32.18 ملین بیرل کمی ریکارڈ کی گئی۔

ادھر سلطنت اومان کے وزیر پٹرولیم محمد بن حمد الرمحی کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک خام تیل کی پیداوار پانچ سے دس فی صد تک کم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل پیدا کرنے والے تمام ممالک نے پیداوار میں کمی فیصلہ کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر الرمحی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک روزانہ ایک ملین بیرل تیل پیدا کر رہا ہے۔ اس میں اضافے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پٹرولیم مصنوعات میں کمی سے ان کے ملک کو کوئی تشویش لاحق نہیں ہے۔ نیز ایران کی جانب سے عالمی منڈی میں اپنا تیل پھینکنے کے اقدام سے ان کے تیل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔