.

عراق میں دو سال میں 19 ہزار ہلاکتیں :اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے منگل کے روز عراق میں گذشتہ دوسال کے دوران تشدد کے واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یکم جنوری 2014ء سے 31دسمبر 2015ء تک عراق میں 18802 شہری ہلاک اور 36245 زخمی ہوگئے تھے۔

رپورٹ میں شہریوں کی اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتوں پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے اور اس میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام(داعش) کے ہاتھوں فائرنگ ،سرقلم کرکے ،بلڈوزر چڑھا کر ،زندہ جلا کر اور عمارتوں سے گرا کر ہلاک کیے گئے افراد کی تفصیل دی گئی ہے۔

رپورٹ میں داعش کے بارے میں یہ یقین بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس وقت انھوں نے عراق کی یزیدی اقلیت سے تعلق رکھنے والے قریباً ساڑھے تین ہزار افراد کو اپنے زیر قبضہ علاقوں میں یرغمال بنا رکھا ہے۔ان میں غالب اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔انھوں نے ان یزیدیوں کو غلام یا باندیاں بنا رکھا ہے۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے جون 2014ء میں عراق کے شمالی شہر موصل پر یلغار کرکے قبضہ کر لیا تھا اور پھر شمال مغرب میں واقع سنی اکثریت صوبوں صلاح الدین ،دیالا اور الانبار کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔عراقی فوجی ان کا مقابلہ کرنے کے بجائے اپنے ہتھیار اور وردیاں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔

داعش نے گذشتہ سال مئی میں الانبار کے صوبائی دارالحکومت الرمادی پر بھی قبضہ کر لیا تھا لیکن حالیہ مہینوں کے دوران امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں کی مدد سے عراقی فوج شمالی شہر تکریت اور الرمادی کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

تاہم عراقی فوج داعش کے جنگجوؤں کو شکست سے دوچار کرکے ان کے زیر قبضہ علاقوں سے نکال باہر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی اگست 2014ء سے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کررہے ہیں۔