.

اسرائیل میں فلسطینیوں کے لیے انصاف کا الگ معیار ہے: امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں یہود اور فلسطینیوں کے لیے انصاف کے الگ الگ پیمانوں پر امریکی سفیر ڈان شپیرو بول اٹھے ہیں اور انھوں نے الزام عاید کیا ہے کہ صہیونی ریاست میں بظاہر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے انصاف کا الگ الگ معیار مقرر ہے۔ان کے اس بیان کو اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے مسترد کردیا ہے۔

ڈان شپیرو نے تل ابیب میں انسٹی ٹیوٹ برائے تزویراتی مطالعات کے سالانہ اجلاس کے موقع پر کہا کہ '' اسرائیلیوں(یہودی انتہا پسندوں) کی گڑبڑ کی کارروائیوں پر کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی جاتی ہے اور بظاہر قانون کی حکمرانی کے لیے دو معیار نظر آتے ہیں۔ایک اسرائیلیوں کے لیے ہے اور دوسرا فلسطینیوں کے لیے ہے''۔

امریکی سفیر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں گذشتہ سال ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو نذرآتش کرنے کے الزام میں دو اسرائیلیوں پر فرد جرم عاید کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ان انتہا پسند یہودیوں نے ایک فلسطینی جوڑے اور ان کے کم سن بیٹے کو زندہ جلا دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ فرد جرم اسرائیل کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیوں پر قانونی چارہ جوئی کی عکاسی ہوتی ہے۔خواہ ان کارروائیوں کا ذریعہ کوئی بھی ہے لیکن فلسطینیوں پر کیے جانے والے بہت سے حملوں کی مؤثر انداز میں تحقیقات نہیں کی گئی ہے یا ان پر اسرائیلی حکام نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے''۔

دوسری جانب انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں بالاصرار یہ دعویٰ کیا ہے کہ قانون کا اطلاق اسرائیلیوں پر بھی اسی طرح کیا جاتا ہے جس طرح فلسطینیوں کے خلاف کیا جاتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی سفیر نے یہ تبصرہ عین اس روز کیا ہے جب مغربی کنارے میں ایک یہودی بستی میں چھے بچوں کی ماں کی تدفین کی گئی ہے۔اس یہودی عورت کو اس کے گھر میں چاقو گھونپ کر قتل کردیا گیا تھا۔بیان کے مطابق یہ تبصرہ قابل قبول ہے اور نہ یہ منصفانہ ہے۔