.

اسرائیل غربِ اردن میں مزید فلسطینی اراضی ہتھیانے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں واقع فلسطینیوں کی مزید اراضی ہتھیانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور وہ ڈیڑھ سو ہیکٹر رقبے کو ریاستی اراضی قرار دینے والا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر اسرائیل اس فلسطینی اراضی پر قبضہ کر لیتا ہے تو 2014ء کے بعد ہتھیایا گیا یہ ایک بڑا زمینی ٹکڑا ہوگا اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

یہ زرعی اراضی وادی اردن میں الریحا کے جنوب میں واقع ہے۔اسرائیل کی فلسطینی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کی مخالف تنظیم ''اب امن'' (پیس نو) کے مطابق اسرائیل نے سنہ 2014ء میں چار سو ہیکٹر فلسطینی اراضی پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد اب یہ اتنا بڑا رقبہ ہتھیایا جارہا ہے۔

غربِ اردن میں شہری امور کے نگران اسرائیلی وزارت دفاع کے یونٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس اراضی کو ریاست کی ملکیت قرار دینے کا عمل آخری مراحل میں ہے لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے کہ اس وقت اس اراضی کا مالک کون ہے؟

''اب امن'' کا کہنا ہے کہ اسرائیلی آباد کاروں نے برسوں قبل یہ اراضی کاشت کاری کے لیے حاصل کی تھی۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ اراضی یہودی آبادکاروں کی بستی آلموغ کے شمال میں واقع ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں غربِ اردن میں اسرائیل کے فلسطینی اراضی پر قبضے کے خلاف فلسطینی قیادت،انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی برادری کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔ فلسطینی غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں میں مستقبل میں اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہوگا لیکن ان کے علاقوں پر قبضے سے تنازعے کے مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل کی راہیں مسدود ہوتی جارہی ہیں۔

''اب امن'' نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے مسلسل فلسطینی زمین پر قبضہ ایک سفارتی المیہ ہے۔حکومت کا فیصلہ دوریاستی حل کے امکان کو تباہ کرنے کی جانب ہی ایک قدم ہے''۔اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون کے دفتر نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔