.

سعودی عرب، چین میں سلک روڈ اکنامک بیلٹ سمیت 14 معاہدے

دونوں ملکوں کا دہشت گردی کے ناسور سے مل کر لڑنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور چین نے باہمی تعاون کے 14 معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کرتے ہوئے اقتصادی میدان میں مل کر آگے بڑھنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے اتفاق کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چین کے صدر شی جین پنگ کل منگل کو پہلے سرکاری دورے پر ریاض پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ صدر شی پنگ نے شاہ سلمان سے ون آن ون ملاقات کی۔ سعودی فرمانروا نے اپنے چینی مہمان کو ’شاہ عبدالعزیز ایوارڈ‘ بھی پہنایا۔ بعد میں دونوں رہ نماؤں کے درمیان باہمی تعاون کے 14 معاہدے اور یادداشتیں منظور کی گئیں۔ ان میں آزادانہ تجارت، دو طرفہ معاشی ترقی، سائنس و ٹینکالوجی میں باہمی تعاون، مصنوعی سیاروں، جہاز رانی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے جیسے اہم معاہدے شامل ہیں۔

دونوں ملکوں میں طے پائے معاہدے

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چین اور سعودی عرب کی قیادت نے باہمی تعاون کے 14 معاہدوں پر دستخط کیے۔ ان میں اہم ترین سعودی عرب، چین سلک روڈ اکنامک بیلٹ کا معاہدہ سر فہرست ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملک اقتصادی ترقی میں باہمی تعاون کے لیے مغربی چین سے وسطی ایشیا اور وہاں سے یورپ تک سڑکیں، ریلوے لائنیں، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں تعمیر کریں گے۔ دو طرفہ تعاون کے دیگر منصوبوں میں ہائی انرجی نی جوہر ری ایکٹر کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ معاہدے پر سعودی عرب کی جانب سے وزیردفاع اور نائب ولی شہزادہ محمد بن سلمان نے جب کہ چین کی جانب سےڈویلپمنٹ وریفرم کمیٹی کے چیئرمین شوشاؤ پاؤ نے دستخط کیے۔

دونوں ملکوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی تعاون کے معاہدے کی منظوری دی گئی جس پر سعودی عرب کی جانب سے شاہ عبدالعزیز سائنس و ٹیکنالوجی سٹی کے چیئرمین شہزادہ ترکی بن سعود بن محمد اور چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے دستخط کیے۔

سعوی عرب اور چین کے درمیان باہمی تعاون کے تحت مصنوعی سیاروں کی تیاری میں باہمی تعاون ، سلک روڈ پروجیکٹ کے بارے میں دوطرفہ معلومات کے تبادلے کی منظوری اور گنجان آباد علاقوں میں ماحولیاتی بہتری کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ دونوں ملکوں نے دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے کا عزم کیا۔ اس حوالے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مشترکہ مشاورتی میکینزم کے قیام کے لیے بھی ایک معاہدے کی منظوری دی گئی جس پر سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر اوران کے چینی ہم منصب وانگ یی نے دستخط کیے۔

دونوں ملکوں کے درمیان طے پائے دوطرفہ تعاون کے معاہدوں میں صنعت، توانائی، اعلیٰ درجہ انرجی پیدا کرنے والے جوہری پلانٹ کےقیام، ارامکو کمپنی اور جمہوریہ چین کے ریسرچ واپ گریڈنگ سینٹر کے درمیان ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی یاداشت، ارامکو اور چین کی پٹیرو کیمیکل کمپنی SINOPEC کے درمیان یاداشت ، صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے علاوہ سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں بھی باہمی تعاون کی یاداشتیں منظور کی گئیں۔

عالمی امن و استحکام

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور چینی صدرشی جین پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، باہمی تعاون کے فروغ کےساتھ ساتھ عالمی مسائل پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہ نماؤں نے عالمی امن و اسحکام بالخصوص دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹںے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے سے اتفاق کیا۔

اس موقع پر چینی صدر نے دورہ سعودی عرب اور شاہ سلمان سے ملاقات کو اپنے لیے باعث سعادت قرار دیا۔ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے شاندار استقبال پر سعودی قیادت اور قوم کا شکریہ ادا کیا۔ صدر پنگ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور چین کے درمیان مستقبل میں تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہوں گے۔