.

شامی اپوزیشن کی اسد حکومت سے مذاکرات کے لیے ٹیم مقرر

حزب اختلاف کی کونسل تیسرے فریق کی موجودگی میں مذاکرات میں شرکت سے انکاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کی کونسل نے آیندہ ہفتے صدر بشارالاسد کی حکومت سے مذاکرات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے لیکن اس نے کسی تیسرے فریق کی موجودگی میں مذاکرات میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے۔کونسل کا اشارہ بشارالاسد کے اتحادی روس کی جانب ہے۔

گذشتہ ماہ سعودی دارالحکومت الریاض میں قائم ہونے والی کونسل کے سربراہ ریاض حجاب نے بدھ کے روز ایک نیوز کانفرنس میں روس پر مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکانے کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب شامی محاصرے اور بمباری کے نتیجے میں مررہے ہیں تو حزب اختلاف مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتی ہے۔

انھوں نے کونسل کی جانب سے مذاکرات میں حصے لینے والی اپوزیشن کی شخصیات کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ان میں باغی گروپ جیش الاسلام کی سیاسی شخصیت محمد علوش بھی شامل ہیں۔دمشق اور ماسکو نے اس گروپ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔حزب اختلاف کی ایک نمایاں شخصیت اسعد الزوبی کو مذاکراتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ٹیم میں جارج صبرہ بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جیش الاسلام کے جنگجو شام کے مغربی علاقوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑرہے ہیں اور اس کو شام کے بڑے باغی گروپوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس کے سربراہ زہران علوش 25 دسمبر کو ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

جارج صبرہ کا کہنا ہے کہ صرف کونسل کو مذاکرات میں شرکت کے لیے حزب اختلاف کے نمائندوں کے انتخاب کا حق حاصل ہے اور روس جیسے ممالک کو اس پر معترض ہونے یا اپوزیشن کی مجوزہ ٹیم کے ارکان کی تعداد بڑھانے یا اپنی جانب سے کوئی نام شامل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

اقوام متحدہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ جب تک بڑی طاقتوں کے درمیان شامی حکومت سے براہ راست مذاکرات کے لیے حزب اختلاف کے نمائندوں پر اتفاق نہیں ہوجاتا ہے تو وہ اس وقت تک کوئی دعوت نامہ جاری نہیں کرے گی۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف آج بدھ کو اس موضوع پر بات چیت کرنے والے تھے۔

روسی وزیرخارجہ نے اسی ہفتے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اسی ماہ دمشق میں براہ راست مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔ان میں شام میں جاری جنگ کے خاتمے اور عبوری حکومت کے قیام کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ روس اور اس کے اتحادی ایران کا یہ اصرار رہا ہے کہ بشارالاسد کو صدارت پر برقرار رہنا چاہیے اور انتقالِ اقتدار کے عمل میں انھیں کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ امریکا ، یورپی ممالک اور خلیجی عرب ریاستوں کا اصرار ہے کہ بشارالاسد کو بحران کے حل کے لیے فوری طور پر صدارت سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔