.

شام میں ہلاک عراقی ملیشیا کا رکن ایران میں دفن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں افغانی اور پاکستانی ملیشیاؤں کے لیے مخصوص "قم قبرستان" میں پہلی مرتبہ ایک عراقی جنگجو کی تدفین عمل میں آئی ہے۔ شام کے صوبے اِدلب میں شامی انقلابیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہونے والے جنگجو محمد علی عبدالرزاق الربیعی کا تعلق "عراقی حزب اللہ بریگیڈز" کی ملیشاؤں سے ہے، اور اسے ایرانی حکومتی اہل کاروں اور فوجی قائدین کی موجودگی میں سرکاری سطح پر دفن کیا گیا۔

یہ قبرستان دو سال قبل، شام میں پاسداران انقلاب کے ساتھ لڑنے والی ملیشیاؤں کے ارکان کی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد بنایا گیا تھا۔ قبرستان میں افغانی ملیشیا "فیلق فاطمی" اور پاکستانی ملیشیا "زینب بریگیڈ" کے سیکڑوں جنگجوؤں کی قبریں ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہاں درجنوں افغانوں کی میتیں لائی گئیں جو حلب کے نواح میں لڑائیوں کے دوران مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ عراقی حزب اللہ بریگیڈز کی ملیشیائیں، جو دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست میں بھی شامل ہیں، کچھ عرصہ قبل اِدلب اور حلب میں شامی اپوزیشن کے خلاف براہ راست لڑائی میں شامل ہوئیں۔

عراقی حزب اللہ بریگیڈز ایک ایسی تنظیم ہے جس نے شام میں لڑنے والی مختلف عراقی ملیشیاؤں کو یکجا کردیا ہے، ان میں "النجباء تحریک" اور "ابو الفضل العباس بریگیڈ" شامل ہیں۔ عراقی حزب اللہ بریگیڈز، ایرانی پاسداران انقلاب کی کمان میں شامی حکومت کی فوج کی معاون کے طور پر اپوزیشن کے خلاف لڑائی میں شریک ہے۔ یہ بریگیڈز "مقدس شیعہ مزارات" کے دفاع کے نام پر 2012 کے آغاز سے شام میں مصروف ِ عمل ہیں۔