.

شمالی عراق میں عربوں کے ہزاروں مکانات مسمار

کرد فورسز نے داعش سے بازیاب علاقوں میں مکانوں کو دھماکوں سے اڑا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے تین شمالی صوبوں سے عربوں کو نکال باہر کرنے کے لیے کرد فورسز نے ان کے ہزاروں مکانوں کو مسمار کردیا ہے۔

اس بات کا انکشاف انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کو ایک بیان میں کیا ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ کرد فورسز نے داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر کنٹرول کے بعد یہ تباہی پھیلائی ہے۔کرد فورسز نے امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں کی مدد سے داعش کے جنگجوؤں کو عراق کے بعض شمالی علاقوں سے نکال باہر کیا ہے اور ان پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایمنسٹی کے بیان کے مطابق کردستان کی علاقائی حکومت کے تحت البیشمرکہ فورسز اور کرد ملیشیاؤں نے شمالی عراق میں داعش کی حمایت کے شُبے میں انتقاماً ہزاروں مقامی افراد کے مکانوں کو بلڈوزوں سے مسمار کردیا ہے یا دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔

ایمنسٹی کی مشیر ڈونیٹیلا رویرا نے بیان میں کہا ہے کہ ''عراق کے خود مختار علاقے کردستان کی فورسز نے عرب آبادیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کی مہم تیز کررکھی ہے۔وہ شہریوں کو زبردستی دربدر کررہے ہیں اور جان بوجھ کر کسی فوجی جواز کے بغیر مکانوں اور املاک کو تباہ کررہے ہیں۔ان کی یہ کارروائیاں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں''۔

داعش اور عراقی فورسز کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے عربوں کو ان کے گھروں میں واپس آنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے۔ایمنسٹی نے عراق کے تین شمالی صوبوں نینویٰ ،کرکوک اور دیالا میں کرد فورسز کی عربوں کو زبردستی بے گھر کرنے اور بڑے پیمانے پر ان کے مکانوں کو مسمار کرنے کے واقعات کے دستاویزی ثبوت فراہم کیے ہیں۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی علمبردار اس تنظیم نے اکتوبر میں شام میں کرد فورسز کی اسی قسم کی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ جاری کی تھی اور اس میں شامی کردوں کی خود مختار انتظامیہ پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزمات عاید کیے تھے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کرد فورسز نے بلاجواز شہریوں کے مکانوں کو مسمار کردیا تھا اور ان کے مکینوں کو زبردستی بے گھر کردیا تھا۔ شام کی کرد ملیشیا کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) نے تب ان الزامات کو مسترد کردیا تھا لیکن منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ چند ماہ قبل داعش سے واپس لیے گئے ایک قصبے میں لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں اپنے چار جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں عراق کے جن تین صوبوں کا ذکر کیا گیا ہے،یہ خودمختار کردستان کی سرحدوں سے باہر ہیں اور وفاقی عراق کا حصہ ہیں۔یادرہے کہ داعش کی جون 2014ء میں ان صوبوں میں یلغار کے وقت عراقی فورسز وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی تھیں اور گذشتہ مہینوں کے دوران کرد فورسز نے داعش کے جنگجوؤں سے لڑائی کے بعد ان میں سے بعض علاقوں کا قبضہ چھڑا لیا ہے اور ان پر خود قبضہ کر لیا ہے۔تاہم عراقی حکومت ان علاقوں پر کرد فورسز کے قبضے کی مخالفت کررہی ہے جب کہ کرد لیڈر اپنی ملیشیاؤں کے زیر قبضہ علاقوں پر اب اپنا حقِ عمل داری جتلا رہے ہیں۔