.

عراق میں لاپتا امریکی ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے ہاں یرغمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں گذشتہ ہفتے لاپتا ہونے والے تین امریکی شہریوں کو ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا نے اغوا کیا ہے اور اس وقت وہ تینوں اس کے پاس زیر حراست ہیں۔

عراق کے دو انٹیلی جنس اور امریکی حکومت کے دو ذرائع نے بدھ کو ان کے شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں اغوا کی تصدیق کی ہے۔عراقی حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے گذشتہ جمعے کے روز ان تینوں کو بغداد کے جنوب مشرقی علاقے الدورہ سے ان کی نجی قیام گاہ سے اغوا کیا تھا۔سنہ 2011ء میں امریکی فوج کے عراق سے انخلاء کے بعد امریکی شہریوں کے اغوا کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے لیے یہ یقین کرنے کا کوئی جواز نہیں کہ ایران اغوا کے اس واقعے میں ملوّث ہے یا ان تینوں کو ایران منتقل کردیا گیا ہے۔تاہم ایک عراقی ذریعے کا کہنا ہے کہ ان تینوں کو امریکی ہونے کے ناتے اغوا کیا گیا ہے اور اس واقعے کے پیچھے کوئی ذاتی یا مالی وجوہ کارفرما نہیں ہیں۔

یہ تینوں امریکی ایک چھوٹی کمپنی کے ملازمین تھے جو امریکی فوج کے ساتھ ایک بڑے ٹھیکے پر جنرل ڈائنامکس کارپوریشن کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔بغداد سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار ہشام الہاشمی کا کہنا ہے کہ اغوا کا یہ واقعہ وزیراعظم حیدر العبادی کو کمزور کرنے کی سازش ہے کیونکہ وہ اپنے دو اتحادی مگر متحارب ممالک ایران اور امریکا کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شیعہ ملیشیائیں مغربی شہر الرمادی میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں عراقی فوج کی فتح پر بھی خوش نہیں ہیں کیونکہ عراقی فوج نے ان کی مدد کے بغیر امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی فضائی مدد سے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔

عراقی حکومت نے شیعہ ملیشیاؤں کو سنی اکثریتی شہر الرمادی سے داعش کو نکال باہر کرنے کی جنگ میں دور ہی رکھا تھا کیونکہ ان کی موجودگی کی صورت شمالی شہر تکریت کی طرح فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔شیعہ ملیشیاؤں پر عراق کے شمالی شہر تکریت سے گذشتہ سال داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کی کارروائی کے دوران وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے گئے تھے اور انھوں نے انتقاماً سنی خاندانوں کے مکانوں اور املاک کو نذرآتش کردیا تھا۔