.

شامی حکومت نے جنیوا مذاکرات کے لئے نمائندہ منتخب کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام کے ایک حکومتی ذرائع کے مطابق شامی حکومت #اقوام_متحدہ میں #دمشق کے نمائندے کو آںے والے شامی مذاکرات میں اپنا نمائندہ مقرر کررہی ہے۔ خدشہ ہے کہ یہ مذاکرات حزب اختلاف کے نمائندے کے چنائو کے معاملے پر ملتوی ہوسکتے ہیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان 25 جنوری کو بالواسطہ مذاکرات شروع ہونا ہیں۔ مگر ان مذاکرات میں نمائندگی کے معاملے پر شامی حزب اختلاف کو تقسیم کا سامنا ہے جس کی وجہ سے مذاکرات خطرے میں دکھائی دیتے ہیں۔

دمشق کے وفد کی قیادت اقوام متحدہ میں شام کے سفیر #بشار_الجعفری کریں گے جبکہ اس وفد کی نگرانی نائب وزیر خارجہ #فیصل_المقداد کریں گے۔

بشار نے 2014ء میں ہونے والے جنیوا امن مذاکرات میں بھی حکومت کے نمائندے کا کردار ادا کیا تھا۔ حکومت کے قریب شامی روزنامے "الوطن" کے مطابق وفد میں کئی سینئیر وکلاء اور وزارت خارجہ کے عہدیداران شامل ہوں گے۔

بدھ کے روز اپوزیشن کی مرکزی جماعتوں کے اتحاد "اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی" نے ان مذاکرات کے لئے اپنے وفد کا اعلان کیا ہے۔ مگر باغی گروپ جیش الاسلام کے ایک رکن کو چیف مذاکرات کار نامزد کرنے کے فیصلے کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دمشق میں موجود ایک اپوزیشن گروپ "نیشنل کوآرڈینیٹنگ کمیٹی برائے جمہوری تبدیلی" کا کہنا ہے "یہ ہمیں قبول نہیں ہے کہ وفد کی نمائندگی مسلح گروپ کا رکن کرے۔ اس اقدام سے شامی عوام کو غلط سیاسی پیغام جاتا ہے۔"

اپوزیشن میں مزید تقسیم اس بات پر بھی ہے کہ مذاکرات میں اس کی نمائندگ ایک وفد سے کی جائے گی یا دو سے۔

الوطن کا کہنا ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی ہم منصب جان کیری نے اپوزیشن میں اختلاف کا معاملہ زیورخ میں ہونے والی ملاقات میں زیر بحث لایا تھا۔

اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی سٹیفان دی مستورا اتوار کے روز ریاض کا دورہ کررہے ہیں تاکہ وہ مذاکرات میں شرکت کرسکیں۔