.

اسرائیل نے غربِ اردن میں اراضی ہتھیانے کی تصدیق کردی

بین کی مون ،فلسطینیوں اور امریکا کی جانب سے اسرائیلی اقدام کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں اردن کے نزدیک واقع فلسطینیوں کی ڈیڑھ سو ہیکٹر زرعی اراضی کو ہتھیانے کی تصدیق کردی ہے جبکہ صہیونی ریاست کے اس اقدام سے اس کی اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

غربِ اردن میں شہری امور کے نگران اسرائیلی وزارت دفاع کے یونٹ (سی او جی اے ٹی) نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو ایک ای میل میں بتایا ہے کہ اس اراضی کو ریاست کی ملکیت قرار دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس کو ریاستی ملکیت دینے کا عمل آخری مراحل میں ہے۔

یہ زرعی اراضی وادی اردن میں اریحا شہر کے جنوب میں واقع ہے۔اسرائیل کی فلسطینی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کی مخالف تنظیم ''اب امن'' (پیس نو) کے مطابق اسرائیل نے اگست 2014ء میں چار سو ہیکٹر فلسطینی اراضی پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد اب یہ اتنا بڑا رقبہ ہتھیایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی آبادکاری کی پالیسیوں کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کریں گے۔

بین کی مون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی سرزمین پر آبادکاری کی سرگرمیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور یہ اسرائیلی حکومت کے ان عوامی بیانات کی بھی واضح نفی ہیں جن میں تنازعے کے دو ریاستی حل کی حمایت کی گئی ہے۔

یہ زرعی اراضی بحیرہ مردار کی شمالی پٹی میں واقع ہے،اس علاقے پر پہلے ہی اسرائیل کا مکمل فوجی اور شہری کنٹرول ہے اور قطعہ اراضی یہودی آبادکاروں کے قبضے میں ہے۔انھوں نے وہاں کھجوروں کے باغات لگائے ہوئے ہیں۔

ردعمل

تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی سینیر رکن حنان اشراوی نے کہا ہے کہ ''اسرائیل وادی اردن میں خاص طور پر اراضی کو ہتھیا رہا ہے اور اس کا منصوبہ فلسطینی رقبے کو صہیونی ریاست میں ضم کرنا ہے۔ اس کو جواز بنا کر عالمی برادری کو اسرائیل کی ننگی جارحیت کے خاتمے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔

امریکا نے کہا ہے کہ وہ یہودی آبادکاری کی توسیع کے لیے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ یہ اقدام بنیادی طور پر تنازعے کے دو ریاستی حل کی تجویز سے کوئی لگا نہیں کھاتا ہے اور اس سے اسرائیلی حکومت کے دو ریاستی حل کے لیے عزم کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔