.

ایران سعودی سفارت خانے پر حملے کا ذمہ دار ہے: او آئی سی

مسلمان ممالک کا ایران کو سخت پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تعاون تنظیم نے جدہ میں ہونے والے اجلاس میں ایران کی دوسرے ممالک میں مداخلت پر مبنی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر بلوائیوں کے حملے کی تمام ذمہ داری ایرانی حکومت پرعاید ہوتی ہے۔ جدہ میں ہونے والے ’او آئی سی‘ کے نمائندہ اجلاس میں ایرانی حکومت کو تمام مسلمان ممالک کی جانب سے سخت پیغام دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں کہا گیا کہ ایران کی بعض پالیسیوں کے باعث کسی بھی خلیجی ملک کے تہران کے ساتھ اچھے تعلقات قائم نہیں ہیں۔ اس کا قصور وار خود ایران ہے۔

جدہ میں ’او آئی سی‘ کے وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مشتعل ھجوم کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ اسلامی ممالک ایران کی دوسرے ممالک میں مداخلت کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ خطے کے ممالک میں ایران کی مداخلت اشتعال انگیزی کو فروغ دینے کا موجب بن رہی ہے۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ تہران حکومت بحرین، یمن، شام، صومالیہ اور دوسرے ملکوں میں مداخلت کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی حمایت کر رہی ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ’’تنظیم کے رُکن ملکوں کے مابین بحران اسلامی دنیا میں سیاسی پھوٹ کو مزید گہرا کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔

خیال رہے کہ جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب تنظیم کےدو اہم رکن ملکوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سخت تناؤ پایا جا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بھی تعطل کا شکار ہیں۔