.

ایران ... قاسم سلیمانی بنا تصویر اور آواز کے نمودار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی خبر رساں ایجنسیوں نے پاسداران انقلاب کے زیرانتظام تنظیم "فیلق القدس" کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں کوئی تصویر، آڈیو یا وڈیو جاری نہیں کی گئی جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ وہ صحت مند حالت میں ہیں۔ اس سے قبل یہ خبر گردش میں آئی تھی کہ گزشتہ نومبر میں حلب میں شامی انقلابیوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران قاسم سلیمانی کی گاڑی کو " ٹاؤ" میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اور اس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوکر جسمانی طور پر معذور ہوچکے ہیں۔

پاسدارن انقلاب کے زیرانتظام ایجنسی "فارس" کا کہنا ہے کہ سلیمانی نے جمعرات کے روز جنرل اللہ دادی کی یاد میں منعقد ایک تقریب میں خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ "شام میں ہزاروں جنگجو سیدہ زینب اور اہل بیت کے مزاروں اور دیگر مقدس مقامات کا دفاع کررہے ہیں"۔ جنرل اللہ دادی 2015 کے اواخر میں شام کے جنوبی علاقے القنیطرہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 14 نومبر کو زخمی ہونے کے بعد "فیلق القدس" کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی دو ماہ سے زیادہ مدت تک عدم موجودگی نے ان کے بارے میں قیاس آرائیوں میں اضافہ کردیا تھا۔ اس دوران دارالحکومت تہران میں پاسداران انقلاب کے زیرانتظام "بقیت اللہ" ہسپتال میں ان کی تشویش ناک حالت میں موجودگی کی بھی خبر آئی تھی۔

اس پورے عرصے میں ایرانی ذرائع ابلاغ نے "فیلق القدس" کے کمانڈر کا انجام چھپائے رکھا، یہاں تک کہ بعض مرتبہ متضاد اور گمراہ کن خبریں بھی پھیلائی گئیں۔ مبصرین کے مطابق حکمت عملی شام میں پاسداران انقلاب کی فورسز اور ان کے ساتھ لڑنے والی شیعہ ملیشیاؤں کے مورال کو برقرار رکھنے کے لیے اپنائی گئی، جو گزشتہ تین ماہ کے دوران پہلے ہی کافی بڑے نقصانات کا سامنا کر چکی ہیں۔

قاسم سلیمانی آخری مرتبہ آواز اور تصویر کے ساتھ گزشتہ سال 14 نومبر کو ایک چھوٹے سے وڈیو کلپ میں ظاہر ہوئے تھے، جس میں "فیلق القدس" کے کمانڈر حلب (شام) کے نواحی دیہی علاقے میں ملیشیاؤں کے مجمع سے عربی زبان میں خطاب کرتے ہوئے نظر آئے۔ یہ وڈیو کلپ "عراقی حزب اللہ" کی ملیشاؤں کے زیرانتظام "النجباء تحریک" نے جاری کیا تھا۔

شامی اپوزیشن نے حلب کے نواحی دیہی علاقے میں " ٹاؤ" میزائل لگنے سے سلیمانی اور ان کے ساتھ سوار 3 افسران کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی، بعد ازاں زخمی ہونے والے تینوں افسران دم توڑ گئے تھے۔