.

ایران کا سعودی سفارت خانے پر حملے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کا دعویٰ

گرفتاری بیرون ملک عمل میں آئی، ایرانی وزارت داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزارت داخلہ میں انٹیلجنس امور کے نائب حسین ذوالفقاری نے تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کے "ماسٹر مائنڈ" کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کارروائی کی پیشگی منصوبہ بندی ایک گروپ نے کی تھی جو اپنی مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

مذکورہ ایرانی سیکورٹی اہل کار نے گروپ کی شناخت یا گرفتار ہونے والے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "ایرانی انٹیلجنس اس شخص کو بیرون ملک سے گرفتار کر کے لائی ہے اور اب اس کے ساتھ تحقیقات جاری ہیں"۔ ایرانی اہل کار نے بیرون ملک سے گرفتاری کے طریقہ کار کو بھی واضح نہیں کیا، جس سے مطلوب شخص کے "اغوا" کیے جانے کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے۔

اس سے قبل ایرانی ایجنسیوں نے، صوبوں کے گورنروں کے ساتھ ذوالفقاری کے اجلاس میں ان کے اس بیان کا حوالہ دیا تھا کہ "حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا گروپ دارالحکومت تہران اور کرج شہر میں دس برسوں سے سرگرم ہے اور اسے ایرانی حکومت کے بڑے اور سینئر ذمہ داروں کی حمایت حاصل ہے"۔ ذوالفقاری نے سعودی سفارت خانے کی حفاظت میں پولیس اور وزارت داخلہ کی جانب سے غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ "اعلی حکام کی جانب سے یہ احکامات جاری کیے گئے تھے کہ دھاوے کی کارروائی میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی جائے"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آوروں کو جمع کرنے کے لیے کوآرڈینیشن سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹیلیگرام کے ذریعے عمل میں آئی۔ ذوالفقاری نے باور کرایا کہ "سیکورٹی ادارے تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے سے متعلق رپورٹ مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کو پیش کریں گے"۔ واضح رہے کہ خامنہ ای نے بدھ کے روز ایک بیان میں سعودی سفارت خانے پر حملے کو "بدترین اور انتہائی شرمناک کارروائی" قرار دیا تھا۔

ماسٹر مائنڈ کی شناخت

دوسری جانب فارسی زبان کے ذرائع ابلاغ میں جن میں وائس آف امریکا (فارسی سروس) شامل ہے، یہ قیاس آرائی گردش کر رہی ہے کہ گرفتار کیا جانے والا شخص "حسن کرد میہن" ہو سکتا ہے۔ جو "جماعت شیرازی" سے تعلق رکھنے والی ایک مذہبی شخصیت ہے۔ اس جماعت کی نسبت شدت پسند مذہبی رہ نما صداق الشیرازی کی طرف کی جاتی ہے جو عرب ممالک میں انتہا پسند شیعہ تحریکوں کو سپورٹ کرتا ہے۔

وائس آف امریکا کی رپورٹ میں ذوالفقاری کے اس بیان کو کہ بیرون ملک سے ایک شخص نے سفارت خانے پر حملے کے احکامات دیے،،، حسن کرد میہن کے بیان سے جوڑا گیا ہے جس میں میہن نے سعودی سفارت خانے پر حملے اور آگ لگانے کی کارروائی کا بھرپور دفاع کیا تھا۔

سفارت خانے پر حملے کے حوالے سے ایرانی موقف میں تضادات کی بھرمار پائی جاتی ہے۔ اس میں تہران کے اٹارنی جنرل کا وہ بیان بھی شامل ہے جس میں انہوں نے سفارت خانے پر حملے میں ملوث 154 افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے، تاہم ان کی جانب سے بھی گرفتار شدگان کی شناخت اور ان کے پیچھے کام کرنے والے خفیہ ہاتھوں کے بارے میں کوئی انکشاف نہیں کیا گیا۔

مرشد اعلیٰ کا موقف

ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای نے بدھ کے روز اپنے خطاب میں سعودی سفارت خانے پر حملے کے حوالے سے "ایرانی انقلابی کارکنوں اور حزب اللہ کے نوجوانوں" کی جانب الزامات کی انگلیاں اٹھائے جانے کو یکسر طور پر مسترد کر دیا تھا۔ یہ حملے کی ذمہ داری سے بے تعلقی کے اظہار اور "خفیہ طور پر دراندازی کرنے والے قانون کی پہنچ سے دور عناصر " پر الزام ڈالنے کی کوشش تھی۔

اگرچہ ایران نے 2011ء میں برطانوی سفارت خانے پر حملے کے تمام تر نتائج کو قبول کرتے ہوئے تمام نقصان کی ادائی کے ساتھ برطانیہ سے معذرت بھی کی تھی۔ تاہم وہ سعودی سفارت خانے پر حملے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے لاتعلق ہونے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ یہ کارروائی سیکورٹی فورسز اور پولیس کی آشیرباد کے تحت عمل میں لائی گئی اور اس میں ایرانی حکومت کے سینئر اہل کاروں کے نزدیک سمجھی جانے والی مشہور شدت پسند شخصیات بھی شریک تھیں۔

حملہ آوروں کی شناخت

اس سے قبل معتبر ایرانی ذرائع ابلاغ نے جس میں اصلاح پسند لیڈر مہدی کروبی کے قریب سمجھی جانے والی ایجنسی "سحام نیوز" شامل ہے، سفارت خانے پر حملہ کرنے والوں کی شناخت کا انکشاف کیا تھا۔ اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ حملہ آور میلیشاؤں کا تعلق ملک میں "ایرانی حزب اللہ" کے نام سے پہچانے جانے والے بلاک سے ہے۔ اور اس سے نسبت رکھنے والے افراد ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام تحریک "بسیج" کے صدر دفاتر کے ارکان ہیں۔

ایجنسی کے مطابق تہران کے شمال مشرقی حصي میں فوجی علاقے "شہید محلاتی" کے ایک گروپ نے سعودی سفارت خانے کی عمارت پر حملہ کر کے آگ لگائی اور اس کا سامان لوٹ لیا۔ یہ چیز مرشد اعلی اور ایرانی حکومت کے دعوؤں کا پول کھول دیتی ہے جو سارا الزام "بیرون ملک موجود اور قانون کی پہنچ سے باہر عناصر" پر ڈال رہے ہیں۔

"سحام نيوز" نے گروپ کے ایک رکن کے حوالے سے جو خود بھی حملہ آوروں میں شامل تھا، بتایا ہے کہ "بسیج کے ارکان اپنے ایک صدر دفتر میں جمع ہوئے تاکہ سفارت خانے پر حملے کی کارروائی کرسکیں اور یہ صدر دفتر "الشہید مہتدی مرکز" تھا۔ اس کے بعد انہیں کارروائی کے لیے بھیجا گیا جہاں وہ دستی بموں اور پیٹرول بموں کو پھینکنے کے لیے خصوصی اسلحہ بھی لیے ہوئے تھے، بعد ازاں ان بموں کے ذریعے عمارت کو آگ لگا دی گئی"۔

اس ذریعے کے مطابق "بسیج کے حملہ آور ارکان نے سفارت خانے کو سامان لوٹ کر اسے عمارت کے بارہ منتقل کیا، اگرچہ سعودی سفارت خانے کے اہل کار اہم دستاویزات کو اپنے ساتھ لے جا چکے تھے جب کہ کم اہم کاغذات کو عمارت میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ بسیج کے ارکان کمپیوٹروں ، موبائل فونز اور دیگر انتظامی اشیاء کو مال غنیمت کے طور پر اپنے گھروں کو لے گئے تھے"۔