.

حوثی باغیوں کی ایران میں سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین

سپریم لیڈر کی ہدایت پر ’ناصرالحق‘ قبرستان حوثیوں کے لیے مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے میں ملوث حوثی باغیوں کی صفوں میں لڑتے ہوئے مارے جانے والے کچھ جنگجوؤں کو ایران میں سرکاری اعزازو اکرام کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ہے۔ ایران میں دفن کیے گئے حوثیوں کو کچھ عرصہ قبل یمن میں لڑائی میں زخمی ہونے کے بعد تہران کے اسپتالوں میں علاج کے لیے لایا گیا تھا تاہم ان میں سے چار جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق چار حوثی باغیوں کو شمالی ایران کے ضلع مازندان کے ’’آمل‘‘ شہر میں دفن کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں تہران حکومت اور فوج کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ضلع مازندان میں ’’ناصر الحق‘‘ قبرستان کو یمن کے حوثی باغیوں کی حمایت میں لڑتے ہوئے مارے جانے والے جنگجوؤں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس قبرستان میں ابومحمد الحسن بن علی الاطروش جیسے اہم شیعہ رہ نما مدفون ہیں جن کی نسبت حسین بن علی بن ابوطالب سے جا ملتی ہے۔ یہ قبرستان انہی کے لقب ’’ناصرالحق‘‘ سے منسوب کیا گیا ہے۔

انہیں یہ لقب زیدی اہل تشیع نے دوسری صدی ھجری میں اس وقت دیا جب انہوں نے ایران میں سامانیوں کی حکومت کا تختہ الٹ کر طبرستان، اور دیلم کے علاقوں میں’’علوی‘‘ مملکت قائم کر دی تھی۔ علی الاطروش نے چار سال حکومت کی۔ فوت ہونے پر انہیں ’’آمل‘‘ شہر میں دفن کیا اور انہی کے لقب سے اس قبرستان کا نام ’’ناصر الحق‘‘ رکھا گیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’مہر‘‘ کے مطابق جن چار حوثیوں کی ایران میں تدفین کی گئی ہے وہ یمن میں باغیوں کے ہمراہ لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ ان کی شناخت محمد احمد حسین الفخری، علی محمد علی احمد المروانی، عاطف علی حزام البشاول اور اکرم محمد المغفاری کے ناموں سے کی گئی ہے۔ یہ جنگجو یمن میں لڑائی کے دوران زخمی ہونے کے بعد تہران کے اسپتالوں میں علاج کے لیے لائے گئے تھے جہاں وہ موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے اور انہیں ایران ہی میں دفن کر دیا گیا۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’ناصرالحق‘‘ قبرستان کو حوثی باغیوں کے لیے مختص کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کی ہدایت کے تحت ہی ہلاک ہونے والے حوثیوں کو وہاں دفن کیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت نے تہران کے قریب ایک قبرستان پاکستان اور افغانستان کے ان جنگجوؤں کے لیے مختص کیا ہے جو شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔ ایران لائے جانے کے بعد انہیں تہران کے اسی مخصوص قبرستان میں سپردخاک کیا جاتا ہے۔

حوثی وفد کی تہران میں موجودگی

ادھرایک دوسری پیش رفت میں بتایا گیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کے ایک نمائندہ وفد پچھلے کئی ہفتوں سے تہران میں موجود ہے جہاں وفد میں شامل ارکان نے ایران کے مذہبی اہمیت کے حامل شہر قُم میں ایرانی رجیم کی اہم سیاسی اور مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں، تاہم حوثیوں کی موجودگی اور ان کی نقل وحرکت کو میڈیا کی نظروں سے مخفی رکھا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حوثیوں کے وفود کی تہران آمد کوئی نئی بات نہیں۔ حال ہی میں آنے والے وفد میں حوثیوں کی اہم شخصیات شامل ہیں جو ایرانی سرکار سے یمن کے بحران بارے بات چیت کر رہے ہیں۔

حوثیوں کی مدد کے لے حکومتی کمیٹی کاقیام

ایران میں کئی ہفتوں سے موجود حوثیوں کا وفد یمن میں باغیوں کی مدد کے لیے قام کردہ ایران کی سرکاری کمیٹی کے لیے بھی سرگرم ہے۔ ایران میں حوثی باغیوں کے حوالے سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کا سربراہ تہران کے سابق پولیس چیف میجر جنرل اسماعیل احمدی مقدم کو مقرر کیا گیا ہے۔ ایک سال قبل وہ پولیس کے ادارے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں برطرف کر دیے گئے تھے۔

ایران میں یمنی باغیوں کی مالی، عسکری اور سیاسی امداد کے لیے قائم کمیٹی اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران صنعاء کے اندرونی معاملات میں مسلسل دخل اندازی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے وفد نے حالیہ ایام میں مرشد اعلیٰ کے مشیرخاص علی اکبر ولایتی سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین علاء الدین بروجرودی سے بھی ان کی ملاقات ہو چکی ہے۔

ایران میں ایک ماہ قبل پہنچنے والے حوثی باغیوں میں حوثیوں کی حرکت انصاراللہ کے سیاسی شعبے کے رکن محمد القبلی، محمد البخیتی، صوفی کونسل کے سیکرٹری جنرل طاھر محمد حیدر، زیدی فرقے کے رہ نما حامد السنوی، تعز میں شافعی کونسل کے چیئرمین احمد محمد شمس الدین اور دیگر نے ایرانی پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی ے چیئرمین مہدی دو تکری سے بھی ملاقات کی۔