.

شامی اپوزیشن کا روسی حملے رُکنے تک مذاکرات سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کی ایک سرکردہ شخصیت نے ملک میں روس کے فضائی حملے رُکنے تک صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔

شامی حزب اختلاف کے ایک اعلیٰ عہدے دار اور مذاکراتی ٹیم کے نائب سربراہ جارج صابرہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جب تک روس کے فضائی حملے روک نہیں دیے جاتے اور شامی فوج محصور علاقوں کو خالی نہیں کردیتی،اس وقت بالواسطہ امن مذاکرات نہیں ہوسکتے ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ حزب اختلاف کی کونسل امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ہفتے کے روز اس صورت حال پر تبادلہ خیال کرے گی۔جان کیری نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ آیندہ ہفتے جنیوا میں مذاکرات ہونے چاہییں،خواہ یہ براہ راست نہ بھی ہوں تو بھی بات چیت ہونی چاہیے۔شامی حکومت نے ان مذاکرات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

جارج صابرہ نے رائیٹرز سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہمیں بات چیت کی شکل پر کوئی تشویش نہیں ہے بلکہ ان مذاکرات کے لیے ماحول سازگار ہونا چاہیے''۔ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ شامی حزب اختلاف جان کیری کی تجویز کے مطابق بالواسط مذاکرات میں بھی حصہ نہیں لے گی تو انھوں نے کہا:''ہاں''۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''کانفرنس کے انعقاد کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جانی چاہییں۔روسی طیاروں کی شامی شہریوں پر بمباری بند ہونی چاہیے اور محصور علاقوں کی ناکابندی ختم کی جانی چاہیے''۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کی کونسل نے دو روز قبل ہی صدر بشارالاسد کی حکومت سے براہ راست بات چیت کے لیے ایک مذاکراتی ٹیم تشکیل دی تھی لیکن اس نے کسی تیسرے فریق کی موجودگی میں مذاکرات میں حصہ لینے سے انکار کردیا تھا۔کونسل کا اشارہ بشارالاسد کے اتحادی روس کی جانب تھا۔

گذشتہ ماہ سعودی دارالحکومت الریاض میں قائم ہونے والی کونسل کے سربراہ ریاض حجاب نے بدھ کے روز ایک نیوز کانفرنس میں روس پر مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکانے کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ جب شامی محاصرے اور بمباری کے نتیجے میں مررہے ہیں تو حزب اختلاف مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ سکتی ہے۔

انھوں نے اسعد الزوبی کو کونسل کی جانب سے مذاکرات میں حصے لینے والی اپوزیشن کی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا تھا اور جارج صابرہ کو اس مذاکراتی ٹیم کا نائب سربراہ بنایا تھا۔ان کے علاوہ باغی گروپ جیش الاسلام کی سیاسی شخصیت محمد علوش مذاکراتی ٹیم میں شامل ہیں۔دمشق اور ماسکو نے اس گروپ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

جیش الاسلام کے جنگجو شام کے مغربی علاقوں میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑرہے ہیں اور اس کو شام کے بڑے باغی گروپوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس کے سربراہ زہران علوش 25 دسمبر کو ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

جارج صابرہ کا کہنا ہے کہ صرف کونسل کو مذاکرات میں شرکت کے لیے حزب اختلاف کے نمائندوں کے انتخاب کا حق حاصل ہے اور روس جیسے ممالک کو اس پر معترض ہونے یا اپوزیشن کی مجوزہ ٹیم کے ارکان کی تعداد بڑھانے یا اپنی جانب سے کوئی نام شامل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔