.

"البیشمرکہ" سنیوں کے خلاف جرائم کی مرتکب: ایمنسٹی انٹرنیشنل

کردستان حکومت کی جانب سے رپورٹ کی تردید، تباہی کی ذمہ دار داعش قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#عراق میں امن و امان کا منظرنامہ صرف #داعش کے قبضے سے ہی شورش زدہ نہیں ہے، اس لیے کہ تنظیم سے واپس لیے جانے والے علاقوں میں بھی مقامی آبادی کے حقوق کی خلاف ورزیاں بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم #ایمنسٹی_انٹرنیشنل کی جاری کردہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ عراق کے جن علاقوں کا کنٹرول داعش سے واپس لے لیا گیا ہے، ان علاقوں میں کردوں کی "#البیشمرکہ" فورسز مقامی آبادی کے خلاف غیر انسانی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ تاہم کردستان صوبے کی حکومت نے مکمل طور پر اس امر کی تردید کی ہے۔

متعدد رپورٹوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کردوں کی فورسز کے زیرکنٹرول علاقوں کا مجموعی رقبہ تقریبا 40 فی صد وسیع ہوگیا ہے۔ اس دوران دیالیٰ صوبے میں جولاء اور السعدیہ کے علاقوں میں البیشمرکہ فورسز نے سنی عربوں کو اپنے گھروں کو واپس آنے سے روک دیا۔ اس کے علاوہ متعدد گھروں کو گرا کر بدلے میں کرد آبادی کو بسا دیا گیا۔

عراق میں سنی عربوں کے علاقوں میں آبادیاتی تبدیلی کی کارروائی میں صرف البیشمرکہ فورسز کا عمل دخل نہیں۔ یہاں متوازی طور پر دیالیٰ کے بعض علاقوں مثلا المقدادیہ اور العظیم میں شیعہ ملیشیاؤں کا رسوخ پھیلا ہوا ہے جہاں سیکڑوں خاندانوں کو اپنے گھروں کو واپس آنے سے روک دیا گیا تاکہ علاقے میں شیعہ آبادی کو غلبہ حاصل ہوسکے۔ اس کے علاوہ شیعہ ملیشاؤں نے بغداد کے جنوب میں واقع علاقے جرف الصخر کے داعش سے آزاد کرائے جانے کے بعد سنی آبادی کو واپس آنے سے روک دیا۔

اس صورت حال کے ساتھ وزیراعظم العبادی کی حکومت علاقائی سطح پر مداخلتوں کا مقابلہ کرنے کی تگ و دو میں ہے جب کہ اس پر یہ بھی الزامات ہیں کہ وہ مذہبی وابستگی رکھنے والی جماعتوں کے مسلح دھڑوں کے ساتھ نمٹنے اور ان سے ہتھیار چھین لینے میں ناکام ہوچکی ہے۔