.

غزہ: "خميني" کی پگڑی میں نمودار شخص کی تصویر نے تنازع کھڑا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ جمعہ کے روز غزہ کی بندرگاہ پر لی گئی ایک تصویر نے جس میں ایک شخص خمینی کی طرز کا لباس اور پگڑی پہنے ہوئے نظر آ رہا ہے، سوشل میڈیا پر غزہ پٹی کے فلسطینیوں کے درمیان تنازع کا شعلہ بھڑکا دیا ہے۔

"أمد" ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق تصویر میں نمودار شخص کے حوالے سے جس کے گرد چند نجی محافظین بھی تھے، بہت سے سوالات اٹھائے گئے۔ بعد ازاں واضح ہوا کہ رفح شہر کے رہائشی اس شہری کا نام محمود جودہ ہے اور وہ لوگوں کو شیعیت کی سب سے زیادہ دعوت دینے والے افراد میں سے ہے۔ اس سے قبل وہ کئی سالوں تک شدت پسند (سنی) تنظیم "جماعہ التکفیر والہجرہ" کا لیڈر رہا۔

محمود جودہ غزہ میں شیعیت اختیار کرنے والی تنظیم "حرکہ الصابرین" کی قیادت کے نزدیک سمجھا جاتا ہے، تاہم وہ 4 برس سے زیادہ عرصے سے اپنے شیعہ ہو جانے اور تہران میں پاسداران انقلاب کی پیروری کرنے کا کھلم کھلا اظہار کر رہا ہے۔ باوجود اس بات کے، کہ وہ غزہ میں جماعہ التکفیر والہجرہ کے سرغنے کے طور پر مشہور رہا۔

غزہ میں "السلفیہ الجہادیہ" تحریک کے سرگرم کارکنوں نے تصویر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ان کے ارکان کے تعاقب اور گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ ایرانی حکومت کے حمایت افراد جو اپنے شیعہ ہو جانے کا برملا اظہار کرتے ہیں وہ بنا کسی تعاقب اور حماس تحریک کی جانب سے کسی بھی پوچھ گچھ کے بغیر آزادی سے گھوم رہے ہیں۔ تحریک کے کارکنوں نے محمود جودہ اور اس کے نزدیک رہنے والے افراد کے ایک گروپ کی وڈیو جاری کی ہے۔ وڈیو میں یہ افراد ایران کی ستائش کر رہے ہیں اور بعض نے تو اپنے سروں پر "لبیک یا حسین" کا بینڈ بھی لگا رکھا ہے۔