.

بشارالاسد کے صاحبزادے روسی اور چینی زبانیں سیکھنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں صدر #بشار_الاسد کے خاندانی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صدر اسد کی خصوصی ہدایت پران کے بیٹے حافظ بشار الاسد نے کسی دوسرے غیرملکی زبان پر روسی زبان کو ترجیح دیتے ہوئے روسی زبان سیکھنا شروع کردی ہے۔ ایک دوسری خبر میں بتایا گیا ہے کہ صدر اسد کے ایک دوسرے بیٹے نے چینی زبان سیکھنا شروع کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 14 سالہ حافظ نے باقاعدہ روسی زبان سیکھنے کی کلاسیں لینا شروع کردی ہیں۔

حال ہی میں #اردن میں شام کے سابق سفیر حیدرہ بھجت سلیمان نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ’’فیس بک‘‘ کے اپنے صفحے پر ایک بیان پوسٹ کیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر اسد کے ایک دوسرے بیٹے #کریم_اسد نے چینی زبان سیکھنا شروع کی ہے تاہم چینی زبان سیکھنے کی وجہ نہیں بتائی گئی آیا گیارہ سالہ لڑکے کی اپنی دلچسپی ہے یا اس نے اپنے والد بزرگوار کے کہنے پر زبان سیکھنا شروع کی ہے۔

شام میں روسی زبان بولنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ شام میں زیادہ تر وہی لوگ روسی زبان بولتے ہیں جو یا خود روسی ہیں یا سابق سوویت یونین کی ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔