.

مذہبی موضوعات پر دستاویزی فلمیں مکہ مکرمہ سینیما میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ میں مذہبی پولیس (هيئة الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر) کے ایک سابق ذمہ دار نے اپنی اس تجویز کو پھر سے دہرایا ہے کہ مقدس شہر میں مذہبی اور اسلامی یادگاروں سے متصل سینیما ہاؤس قائم کیے جائیں۔

مکہ مکرمہ میں مذہبی پولیس کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد الغامدی کا کہنا ہے کہ تجویز کردہ سینیما ہاؤسز مکہ میں مذہبی اور اسلامی یادگاروں مثلا جبل ثور، جبل نور، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش، طوی کا کنواں وغیرہ سے متصل ہونے چاہیئں۔ ان سینیما ہاؤسز کا ڈیزائن تمدن کا آئینہ دار ہو اور ان میں (دستاویزی فلم کی) نمائش کے اوقات مقرر ہوں۔

سعودی روزنامے "مكة" کے مطابق ڈاکٹر الغامدی نے مقدس شہر میں ان سینیما ہاؤسز کے قیام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد مذہبی یادگار کا دورہ کرنے سے قبل اس سے متعلق تاریخی معلومات پیش کرنا ہے تاکہ دورہ کرنے والا زائر اس کے وجود کا پس منظر جان سکے۔ اس کے علاوہ آگاہی اور تنبیہ سے متعلق بعض امور بھی پیش کیے جائیں کہ اس مقام کے حوالے سے کیا چیز شرعا جائز ہے اور کیا جائز نہیں، اور دیگر وڈیوز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے متعلق ہوں۔ اس طرز پر ان امور کا پیش کیا جانا اسلام اور اس سے آگاہی کے حوالے سے بڑی قدرومنزلت کا حامل ہوگا۔

کچھ عرصہ قبل مکہ مکرمہ کی متعدد شخصیات نے بعض سماجی اور ثقافتی محفلوں کے دوران اس طرح کا آئیڈیا پیش کیا۔ مکہ کی پولیس کے سابق سربراہ جنرل محمد الحارثی کا ایک محفل میں تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ "تاریخی یادگاروں کے ساتھ سینیماؤں کے قیام سے آگاہی کے بڑے مقاصد حاصل ہوں گے، اور دیکھنے والے پر اس کے اچھے اثرات ہوں گے"۔ انہوں نے مخصوص اداروں کی جانب سے ان سینیماؤں کی نگرانی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پیش کی جانے والی معلومات کی درستی اور سچائی کو یقینی بنایا جاسکے۔

دوسری جانب ام القری یونی ورسٹی (مکہ) میں تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر فواز الدہاس نے جامعہ شاہ عبداللہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی میں کیے جانے والے تجربے کی اہمیت کو واضح کیا۔ جہاں اعلیٰ ٹکنالوجی کے ڈسپلے ہال بنائے گئے ہیں، ان کے ذریعے بعض اہم مقامات سے متعلق دستاویزی اور تاریخی معلومات پیش کی جاتی ہیں۔ یہ مقامات ہر سال بیت اللہ کے زائرین کی جانب سے بھرپور توجہ حاصل کرتے ہیں۔ ان زائرین کو آگاہی کے ایسے ذرائع کی ضرورت ہے جو انہیں ان یادگار اور تاریخی مقامات کے بارے میں وضاحتی معلومات فراہم کرسکیں۔