.

شامی فوج کا اردن کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی حکومت نواز فورسز نے باغیوں کے خلاف گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری لڑائی کے بعد اردن کی سرحد کے نزدیک تزویراتی اہمیت کے حامل قصبے شیخ مسکین پر قبنضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ اسدی فوج اور اس کی اتحادی لبنان کی حزب اللہ سمیت ایران کی حمایت ملیشیاؤں نے صوبے درعا میں واقع قصبے شیخ مسکین پر سوموار کی رات کو قبضہ کیا ہے۔اس دوران شامی فوج اور روس کے لڑاکا طیاروں نے باغیوں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے تھے۔

یہ قصبہ شمال میں واقع دارالحکومت دمشق اور مشرق میں حکومت کے کنٹرول میں شہرسویدہ کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے۔یہ باغیوں کے مضبوط گڑھ نوا سے صرف بارہ کلومیٹر دور ہے اور شامی فورسز اب اس قصبے پر بھی چڑھائی کی تیاری کررہی ہیں۔

ایک سکیورٹی ذریعے کے مطابق باغی جنگجو شیخ مسکین سے ہی صوبے درعا میں کارروائیاں کیا کرتے تھے اور یہ ایک طرح سے درعا میں ان کا مرکز ثقل تھا۔اب اس پر قبضے سے دمشق کے آس پاس کے علاقوں میں موجود باغی گروپوں کے لیے سپلائی لائن بھی منقطع ہوجائے گی۔

اسدی فوج نے گذشتہ ماہ اس قصبے کے نواح میں واقع بریگیڈ 82 کے بیس پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے وہ شیخ مسکین کا کنٹرول واپس لینے کے لیے باغیوں کے خلاف لڑ رہی تھی۔

واضح رہے کہ درعا کے بیشتر علاقوں پر حزب اختلاف کے جنگجوؤں کا کنٹرول ہے۔البتہ شامی حکومت کی صوبائی دارالحکومت کے بعض حصوں اور شمال مغرب میں واقع چند ایک دیہات میں عمل داری قائم ہے۔

ادھر شام کے وسطی شہر حمص میں فوج کے ایک چیک پوائنٹ پر دو خودکش بم حملوں میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔صوبہ حمص کے گورنر طلال برازی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پہلے ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو چیک پوائنٹ پر دھماکے سے اڑا دیا تھا اور اس کے چند سیکنڈز کے بعد دوسرے بمبار نے دھماکا کیا تھا۔