.

مغربی کنارہ: اسرائیلی آبادکاروں کے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی وزارت دفاع نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع یہودی بستیوں میں مزید توسیع کا منصوبہ بناتے ہوئے 153 نئے ہائوسنگ یونٹس کی تعمیر کی اجازت دے دی ہے۔

اسرائیلی آبادکاری پر نظر رکھنے والی تنظیم "پیس نائو" کی ترجمان ھاجیت اوفران کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پچھلے ہفتے کے دوران منظور کروا لیا گیا تھا اور اس میں مغربی کنارے کے علاقے ارییل، الخلیل میں قائم الکرمل اور غوش عتصیون یہودی بستیوں میں تعمیر کی اجازت دی گئی ہے۔

'پیس نائو' نے 28 دسمبر کو کہا تھا کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لئے نئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے بنا رہا ہے۔

'پیس نائو' نے وزارت ہاؤسنگ کی اہم دستاویزات حاصل کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب حکومت دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے چھوٹی کالونیوں کے بجائے دو نئے شہر آباد کرنا چاہتی ہے جن میں 55 ہزار 548 مکانات کی تعمیر کی اسکیم تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 8300 مکانات بیت المقدس سے متصل سیکٹر E1 میں تعمیر کیے جائیں گے جس کے نتیجے یں مغربی کنارے دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ جائے گا۔ بیت المقدس قریب 12 کلو میٹر کے علاقے پر ان مکانات کی تعمیر سے غرب اردن کی جغرافیائی تقسیم کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام میں ایک نئی رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’’ناؤ پیس‘‘ کا کہنا ہے کہ معالیہ ادومیم کے E1 سیکٹر میں یہودی آبادکاروں کے لیے گھروں کی تعمیر سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔ یہ ایک حساس علاقہ ہے۔ اگر اسرائیل اس علاقے میں مزید تعمیرات کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکومت جب بھی اس علاقے میں تعمیرات کے کسی منصوبے پر کام شروع کیا ہے عالمی دباؤ کے باعث صہیونی ریاست کو پسپا ہونا پڑا ہے مگر اب کی بار اسرائیل نے اس منصوبے پر خفیہ طور پر کام شروع کرنے کی اپنائی ہے۔