.

حسنی مبارک کی کٹہرے میں قہوہ نوشی قانون سے کھلا مذاق؟

ویڈیو مصر میں عوامی تحریک کے پانچ برس مکمل ہونے پر سامنے آئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے الگ کئے جانے والے مصر کے سابق مرد آہین حسنی مبارک کی ایک وڈیو نے ملک میں بڑے تنازع کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس وڈیو میں وہ صدارتی محلوں سے متعلق ایک مقدمے کی کارروائی کے دوران ملزمان کے کٹہرے کے اندر بیٹھے قہوہ پی رہے ہیں۔

اس منظر نے بہت سے لوگوں کو غیض وغضب میں مبتلا کر دیا ہے، جن کے خیال میں یہ عدلیہ کی روایات کی کھلی خلاف ورزی اور حسنی مبارک کے متعدد مقدمات میں ملزم ہونے کے باوجود ان کے ساتھ امتیازی حسن سلوک کا مظاہرہ ہے۔ تاہم بعض دیگر حلقوں کے نزدیک یہ ایک فطری منظر اور ملزمان کو حاصل حقوق میں سے ہے۔

یہ وڈیو 9 فروری 2014 کو قاہرہ کی پولیس اکیڈمی میں فوج داری عدالت کی ایک کارروائی کے دوران بنائی گئی۔ کارروائی میں حسنی مبارک اور ان کے دو بیٹوں علاء اور جمال پر صدارتی محلوں کے لیے مختص رقوم سے 12.5 کروڑ مصری پاؤنڈ اپنے قبضے میں لینے کے الزام کے تحت مقدمے کی سماعت کی جا رہی تھی۔

واقعے کی قانونی حیثیت

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ اسعد ہیکل نے واقعے کی قانونی حیثیت پر روشنی ڈالی۔ ہیکل کا کہنا تھا کہ حسنی مبارک جس وقت عدالت میں پیش ہوئے تو ان کے خلاف سابقہ مقدمات ختم ہو چکے تھے لہذا قیدیوں کے لباس کے بجائے سرکاری لباس یا اور کسی لباس میں حاضر ہونا سابق صدر کا حق تھا۔

جہاں تک قہوہ پینے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے اسعد ہیکل نے بتایا کہ عدلیہ کی روایات آرام کے وقفے کے دوران ملزمان کو کھانے پینے کا حق دیتی ہیں اور اس حق کی ضمانت قانون بھی دیتا ہے، تاہم سماعت کے دوران ملزمان کو اس کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی سینئر ایڈوکیٹ نے تصدیق کی کہ اس وقت عدالتی کارروائی کے دوران وقفہ تھا بصورت دیگر جج صاحب حسنی مبارک کو قہوہ پینے کی اجازت ہر گز نہ دیتے۔

دوسری جانب قانون کے پروفیسر ڈاکٹر ایمن سلامہ نے باور کرایا کہ قیدیوں، زیر حراست یا گرفتار شدگان کے ساتھ امتیازی معاملے کی اجازت نہیں، اس کے ساتھ ساتھ جیل اور یہاں تک عدالتی کارروائی کے دوران خصوصی کمرہ حراست میں بھی قہوہ پینے کی اجازت نہیں ہے۔

"العربيہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سلامہ کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی مکمل اور براہ راست ذمہ داری عدالت پر عائد ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں جج کے پاس مکمل اختیارات ہوتے ہیں اور وہ تمام ملزمان، وکلاء اور عدالت کے پہرے داروں کے خلاف جرمانے کا پروانہ جاری کر سکتا ہے۔