.

ایران : انتخابات اور خامنہ ای کے ممکنہ جانشیں کے تقرر کا وقت قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانیوں کو ان دنوں "مجلس خبرگان رہبری" کے انتخابی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے نتائج کا شدت سے انتظار ہے۔ "شوریٰ نگہبان" کی جانب سے اجازت یافتہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان رواں ہفتے کے اختتام پر متوقع ہے۔ مجلس خبرگان رہبری، ایرانی مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور بلدیاتی کونسلوں کے لیے ووٹنگ فروری کے آخری ہفتے میں ایک ہی روز مکمل کی جائے گی۔

اگرچہ بعض ویب سائٹوں کی جانب سے خمینی کے پوتے حسن خمینی سمیت بہت سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی قیاس آرائیاں سامنے آئی تھیں۔ تاہم بعد ازاں شوری نگہبان کے فیصلے کے انتظار میں ان قیاس آرائیوں کو ہٹا دیا گیا۔ ان سائٹوں میں ایرانی سیکورٹی اداروں کے قریب سمجھی جانے والی ویب سائٹ "تسنیم" بھی ہے۔ اپنے ایک بیان میں "شوریٰ نگہبان" کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تمام قیاس آرائیاں غلط ہیں۔

ایران کے آئین کے مطابق "مجلس خبرگان رہبری" اپنے آئینی فرائض اور ذمہ داریوں کے پیش نظر ایرنی حکومتی نظام کا ایک اہم ترین ستون شمار کی جاتی ہے۔ ایران کی حالیہ صورت حال اور مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کی موجودہ صحت کے تناظر میں دیکھا جائے تو مجلس خبرگان رہبری اور اس کے آئندہ انتخابات کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔


ایرانی آئین کی روشنی میں "خبرگان" کی حیثیت

ایرانی آئین کے آرٹیکل 107 کے مطابق "رہبرمعظم (سپریم لیڈر) کا تقرر عوام کے منتخب کردہ خبرگان کی ذمہ داری ہے۔ یہ خبرگان باہمی مشاورت کے ذریعے رہبر کی شرائط پر پورا اترنے والی شخصیت پر غور کرتے ہیں اور پھر اس کو رہبری کے لیے چن لیتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ خبرگان میں سے ہی کسی کو بطور رہبر چن کر اس کا اعلان کردیتے ہیں"۔

ایرانی آئین کے آرٹیکل 105، 108،109 اور 111 کی روشنی میں مجلس خبرگان کی یہ ذمہ داریاں ہیں : سپریم لیڈر کی وفات یا استعفے کی صورت میں مجلس خبرگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جلد از جلد نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرے۔ اگر سپریم لیڈر کے بارے یہ بات سامنے آئے کہ اس نے ایران کے آئین میں درج کسی بات کی خلاف ورزی کی ہے یا اس میں ایسی قابلیت نہیں پائی جاتی جس بنیاد پر اس کو سپریم لیڈر بنایا گیا تھا تو مجلس کے پاس سپریم لیڈر کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار ہے۔


قانون اور پالیسی، مجلس خبرگان کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہیں

اگرچہ ایرانی آئین میں مجلس خبرگان کو اہم ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں جن میں مرشد اعلیٰ کے کام کی نگرانی شامل ہے، تاہم بعض قانونی شقیں مجلس کی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی راہ میں حائل ہیں۔ مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات 8 سال کے بعد ہوتے ہیں۔ "شوریٰ نگہبان" امیدواروں کی اجازت کو زیربحث لاتی ہے اور جس کو بھی مجلس میں آنے کے لیے غیرمناسب سمجھتی ہے، اس کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیتی ہے۔

"شوریٰ نگہبان" کل 12 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان میں نصف (6) مذہبی شخصیات ہوتی ہیں جن کو مرشد اعلیٰ (سپریم لیڈر) براہ راست مقرر کرتا ہے، جب کہ بقیہ نصف (6) پارلیمنٹ کی طرف سے نامزد قانونی ماہرین ہوتے ہیں جن کی تقرری کی حتمی منظوری ایران کی عدلیہ کے سربراہ (چیف جسٹس) دیتے ہیں۔

مجلس خبرگان کے ارکان عموما مرشد اعلیٰ کی پالیسیوں کی تائید کے دائرے سے باہر نہیں نکلتے، اور یہ ہی کچھ گزشتہ برسوں میں ہوتا رہا ہے۔ مجلس خبرگان جس کے ذمہ مرشد اعلیٰ کے کام کی نگرانی بھی ہے، سال کے دوران اپنے دو اجلاسوں میں مرشد اعلیٰ کی کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اجلاس کے بعد مجلس کے ارکان مرشد کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے کام کی نگرانی کرنے والوں کو ہدایات دیں۔

جس کسی نے بھی کبھی مرشد اعلیٰ یا ملک کی پالیسیوں پر تنقید کی تو اسے مرشد اعلیٰ کے پیروکاروں کی جانب سے شدید نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ ہی کچھ شیراز شہر سے تعلق رکھنے والے مجلس خبرگان کے رکن محمد علی دستغیب کے ساتھ ہوا۔


آئندہ اتخابات کی اہمیت

مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کی صحت کے پیش نظر، مجلس خبرگان کا آئندہ کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یاد رہے کہ 76 سالہ خامنہ ای 1989 سے مرشدی اعلیٰ کے منصب پر فائز ہیں۔ ایسی بہت سی قیاس آرائیاں بھی ہیں کہ آئندہ مجلس، موجودہ مرشد اعلیٰ کی وفات کی صورت میں نئے مرشد کو چننے پر مجبور ہوجائے گی۔ اسی واسطے آج ہم ایران میں شدید مقابلے کا رجحان دیکھ رہے ہیں۔ نامزد مذہبی شخصیات کی ایک بڑی تعداد شوریٰ نگہبان کی تائید کی منتظر ہے تاکہ وہ مجلس کے انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ ان میں اہم ترین شخصیات میں حالیہ ایرانی نظام کے بانی خمینی کے پوتے حسن خمینی بھی شامل ہیں جو اصلاح پسندوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

اس سے قبل مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہاشمی رفسنجانی کے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ مرشدی اعلیٰ علی خامنہ ای کا کسی "ناگہانی" کا سامنا کرنے کی صورت میں جمہوریہ کے نئے مرشد کا انتخاب کرنے کے لیے ایک خصوصی گروہ تشکیل دیا جائے گا۔

اسی واسطے ایران میں سب لوگ آئندہ انتخابات کے لیے تیار ہیں۔ ان میں خود علی خامنہ ای بھی شامل ہیں جنہوں نے چند روز قبل مجلس خبرگان کے انتخابات کی اہمیت کو باور کراتے ہوئے کہا کہ " ایک روز موجودہ رہبر اس دنیا سے چلا جائے گا، اس مجلس پر لازم ہوگا کہ ایک ایسے سربراہ کا چناؤ کرے جو اس انقلاب کے مشن کو جاری رکھنے پر قادر ہو"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ امکان بھی ہے کہ ایسے شخص کا چناؤ کیا جائے جو موجودہ مرشد اعلیٰ سے مختلف صفات کا حامل ہو۔

یہ بیان، انتخابات سے قبل ریاست کے آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے بٹے ہوئے ایرانی سیاسی گروپوں کے درمیان کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔