.

توہین اسلام کے الزام میں مصری خاتون صحافی کوتین سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک مقامی عدالت نے اسلامی کی مبینہ توہین کے الزام میں ایک سرکردہ خاتون صحافی اور مصنفہ فاطمہ ناعوت کو تین سال قید اور 20 ہزار مصری پاؤنڈ جرمانے کی سزا سناتے ہوئے اس کا کیس خصوصی عدالت کو بھجوا دیا گیا ہے۔

عدالت نے ناعوت کے وکیل محمد عفیفی کی موجودگی میں گذشتہ روز ملزمہ کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ سنایا۔ ناعوت پر اسلام کی توہین اور سوشل میڈیا پر عدالت کی توہین کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔

قبل ازیں مصر کے السیدہ زینب پراسیکیوشن کی جانب سے ناعوت کا کیس الجنح کی ایک مقامی عدالت کو بھجوایا گیا تھا۔ اس پر مبینہ طور پر اسلام کی توہین اور’فیس بک‘‘ پر شعائر اسلام کا تمسخر اڑانے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ناعوت نے اپنے خلاف جاری مقدمہ کے تحت عاید الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسلام میں عید بقرہ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کے تصور پر میرے خیالات کو مبالغہ آرائی دے کر اسے توہین اسلام قرار دیا گیا ہے۔ میں نے جانوروں کی قربانی کو ’’جانوروں کو اذیت‘‘ دینے کے مترادف قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ فاطمہ ناعوت نیوز مصر سے پارلیمنٹ کی رکن کی بھی امیدوارہ تھیں تاہم وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ہار گئی تھیں۔