.

سعودی خاتون شدت پسند کو چھ سال قید کی سزا

’المہاجرہ‘ کی ایمن الظواہری، بن لادن اور البغدادی کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے شدت پسند تنظیم القاعدہ اور دولت اسلامی ’’داعش‘‘ سے تعلق کے الزام میں ایک مقامی خاتون جنگجو کو چھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ 25 سالہ ’’المہاجرہ‘‘ کے نام سے مشہور خاتون پر الزام ہے وہ شدت پسند تنظیموں کے شعبہ اطلاعات ونشریات میں سرگرم رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ریاض میں قائم فوج داری عدالت نے بدھ کے روز اپنے ابتدائی فیصلے میں لکھا ہے کہ پراسیکیوٹر کے فراہم کردہ شواہد وقرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ خاتون جنگجو نے تکفیری نظریات اپنانے کے ساتھ ساتھ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے ہاتھ پر بیعت بھی کی ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پر اپنے تاثرات اور ٹوئٹر پر پوسٹ کردہ ٹویٹس میں بھی القاعدہ کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس کے رہ نماؤں کی تعریف وتوصیف بیان کی اور اس کے جنگجوؤں کو ہیرو قرار دیا۔ القاعدہ کے علاوہ اس نے شدت پسند گروپ داعش کی بھی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے اس نے داعشی خلیفہ ابو البغدادی اور اس کے ساتھیوں کی بھی تعریف و توصیف بیان کرتے ہوئے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

سزا پانے والی سعودی دوشیزہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر القاعدہ اور داعش کے رہ نماؤں کی تصاویر کے ساتھ سعودی عرب کے اندر اور باہر شدت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اور قتال پر بھی اکسایا گیا ہے۔ اس نے یمن میں القاعدہ اور داعشی جنگجوؤں کی حمایت کرتے ہوئے نوجوانوں کو شدت پسندوں سے مل کر حکومت وقت کے خلاف لڑنے کی ترغیب دی ہے۔ اس نے یمن اور سعودی عرب کے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ڈالے گئے جنگجوؤں کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ حکومت کے خلاف بغاوت پراکسانے کے ساتھ ’’المہاجرہ‘‘ نے سعودی عرب کے مفتی اعظم کے خلاف نازبیا الفاظ استعمال کیے ہیں اور ان کی موت کی دعا کی ہے۔

ان تمام الزامات کے بعد سعودی عرب کی عدالت نے ’’المہاجرہ‘‘ کو چھ سال قید اور رہائی کے بعد چھ سال کے لیے بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزا سنائی ہے۔