.

شام میں بمباری اور بھوک مذاکرات میں حائل: شامی اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف نے ملک میں روسی اور اسدی فوج کی بمباری اور شہریوں کو محصور کرکے قحط سے دوچار کرنے کو اقوام متحدہ کے زیراہتمام جنیوا میں امن مذاکرات کے آغاز کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔

حزبِ اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی (ایچ این سی) نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل سے شام میں بمباری رکوانے اور محاصرہ زدہ علاقوں کی ناکا بندی ختم کرانے کے لیے اقدامات کا کہیں۔

ایچ این سی کے ترجمان نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم مذاکرات میں شرکت اور ان کے آغاز کے لیے سنجیدہ ہیں لیکن شہریوں پر بمباری اور ان کی بھوک مذاکرات کی راہ میں حائل ہیں''۔

الریاض میں موجود شامی حزب اختلاف کی قومی کونسل نے ابھی تک جنیوا میں شامی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے جبکہ ان کے آغاز میں صرف ایک دن رہ گیا ہے۔

الریاض میں حزب اختلاف کے اجلاس کے بعد ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی مستورا نے ان کے خط کا جواب دے دیا ہے اور کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے اور وہ اب اس پر بین کی مون کے جواب کے منتظر ہیں۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ ماہ منظور کردہ ایک قرارداد میں شام میں جنگ بندی اور محصور شہریوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے پر زوردیا تھا۔

درایں اثناء شامی کردوں کی جمہوری کونسل کے شریک رہ نما ہیثم مناع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کو پندرہ ضروری ناموں کی فہرست بھیجی ہے جو ان کے بہ قول جنیوا امن بات چیت میں ضرور شامل ہونے چاہییں۔

ایران :نئے نقاب میں دہشت گرد

ایران نے کہا ہے کہ وہ شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات میں ''نئے نقاب میں دہشت گردوں'' کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیرعبدالالہیان نے روس کے دورے کے موقع پر ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''نئے ماسک کے ساتھ دہشت گردوں کو شامی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور یہ سب سے اہم شرط ہے''۔

واضح رہے کہ شامی حکومت اور اس کے اتحادی ایران اور روس شام میں سرکاری فورسز کے خلاف برسرپیکار تمام باغی گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔ان میں سے بعض گروپوں کے نمائندے شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی میں بھی شامل ہیں۔

اس دوران شامی فوج نے روس کے فضائی حملوں کی مدد سے ملک کے مغربی حصے میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔اسی ہفتے شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے اردن کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے شیخ مسکین پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے باغیوں کو پسپا کردیا ہے۔