.

مصر: پانچ انقلابی کارکنان کی سزائے قید کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے پانچ سیکولر کارکنان کو سنائی گئی دو،دو سال قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔

ایک عدالتی اہلکار اور وکیل صفائی کے مطابق ان پانچوں پر نومبر 2015ء میں چار سال قبل پیش آئے تشدد کے واقعات کی یاد میں ایک جلوس میں حصہ لینے کا الزام تھا۔دسمبر میں ان کے خلاف غیر مجاز اجتماع میں حصہ لینے ،سڑکوں کو بند کرنے اور غیر قانونی طور پر مظاہرہ کرنے کی پاداش میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔وہ اب بھی مصر کی اعلیٰ عدالت میں اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

قاہرہ کی ایک اپیل عدالت نے ایک سرجن اور بائیں بازو کی ایک چھوٹی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن سمیت پانچ کارکنان کے خلاف ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔اس عدالت نے انھیں غیر قانونی طور پر احتجاجی ریلیاں نکالنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر دو، دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ان کارکنان پر الزام تھا کہ انھوں نے 19 نومبر 2011ء کو قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں فوجی جنتا کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی یاد میں مظاہرہ کیا تھا۔چار سال قبل دس روز تک جاری رہنے والی ان احتجاجی ریلیوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں بیالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

وکیل صفائی انس سیّد نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان پانچوں کو نومبر میں ایک کریک ڈاؤن کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور جس علاقے سے انھیں پکڑا گیا تھا،وہاں کوئی احتجاج نہیں ہورہا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عدالت کے فیصلے کو مصر کے فوجداری نظام انصاف کی غیر منصفانہ اور منتقمانہ نوعیت کی ایک اور مثال قرار دیا ہے۔تنظیم نے ایک بیان میں سزا پانے والے دو افراد کے حوالے سے کہا ہے کہ دوران تفتیش انھِیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان سے بدسلوکی کی گئی تھی۔