.

بین الاقوامی یقین دہانیوں کے بعد شامی اپوزیشن کی جنیوا روانگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں امن سے متعلق حزب اختلاف کی اعلی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان منذر ماخوس کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی نمائندگی کرنے والی مذاکراتی ٹیم کی آج جنیوا روانگی متوقع ہے، تاہم وفد کی امن مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے شرائط اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ان شرائط میں بشار الاسد حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قرار دادوں کا نفاذ بالخصوص قرارداد نمبر 2254 اور ان میں اہم ترین آرٹیکل 12 اور 13، جن کے تحت شام میں شہروں اور قصبوں کا حکومتی محاصرہ ختم کرنے، انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دینے، بمباری روکنے اور قیدیوں کی رہائی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سعودی دارالحکومت #ریاض میں کئی روز تک جاری رہنے والی کثیر مشاورت کے بعد بالآخر اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے جنیوا بات چیت کے تیسرے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرلیا۔ شامی تنازع کے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے ہونے والا یہ اجلاس جمعہ کے روز شروع ہوچکا ہے۔

کمیٹی کے بیان کے مطابق "آمادگی کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر عمل درامد کے حوالے سے بین الاقوامی یقین دہانیاں ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی باور کرایا ہے کہ ان کا ملک جنیوا مذاکرات کے پہلے دور کے اعلامیے کے مطابق،مکمل اختیارات کی حامل ایک عبوری حکمراں کمیٹی کی تشکیل کے ذریعے اقتدار کی سیاسی منتقلی کو سپورٹ کرے گا۔"

شامی اپوزیشن کی اعلیٰ کمیٹی کے مطابق اس کا جنیوا جانا شامی حکومت کی سنجیدگی کا امتحان لینے کے لیے ہے۔ کمیٹی کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات بالواسطہ صورت میں ہوں گے اور کمیٹی کو کئی خلیجی برادر اور دوست ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے سپورٹ حاصل ہے۔

ادھر سعودی عرب نے اپوزیشن کی جانب سے #جنیوا مذاکرات میں شرکت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس فیصلے کو امریکی وزیر خارجہ نے بھی سراہا ہے۔

اس سے قبل شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹافن ڈی مستورا نے جمعہ کے روز شامی حکومت کے وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے باور کرایا کہ مذاکرات کے ذریعے شامی عوام کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

#اقوام_متحدہ اور شام میں سیاسی حل کو سپورٹ کرنے والے فریقوں نے جنیوا مذاکرات کے التوا کو مسترد کردیا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق بات چیت کا پہلا دور 11 فروری سے قبل ختم ہوجائے گا، جس کے بعد بات چیت کا جائزہ لینے کے لیے ایک سربراہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔