.

جنیوا مذاکرات : شامی فریقوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئس شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن مذاکرات میں شرکت کرنے والے شام کے متحارب دھڑوں نے ایک دوسرے پر ممکنہ منفی طرز عمل اپنانے کے الزامات عاید کیے ہیں اور حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ بشارالاسد رجیم مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے کام کرے گا۔

شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی (ایچ این سی) کے ترجمان سلیم آل مصلاط نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''وہ ایسے سیاسی عمل کا آغاز چاہتے ہیں جو انتخابات اور ملک میں تمام طبقوں کی نمائندہ حکومت کے قیام پر منتج ہو''۔

انھوں نے کہا:'' وہ یہاں یہ ثابت کرنے کے لیے آئے ہیں کہ وہ سیاسی عمل کو کامیاب کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ اسد رجیم اس کے برخلاف کام کرے گا''۔ترجمان نے کہا کہ شامی حزب اختلاف ایک عبوری حکومت کے قیام ،عبوری آئین اور تمام شامیوں کے نمائندہ انتخابی عمل کے لیے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ترجمان نے سعودی دارالحکومت الریاض سے جنیوا پہنچنے کے بعد کہا تھا کہ ''ہم ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے خواہاں ہیں''۔دوسری جانب شامی حکومت کے ایک اعلیٰ سفارتی نمائندے نے حزب اختلاف کے بارے میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشارالجعفری نے جنیوا میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ دمشق حکومت گذشتہ پانچ سال سے جاری تشدد اور خونریزی کا خاتمہ چاہتی ہے لیکن انھوں نے مرکزی حزب اختلاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن مذاکرات میں سنجیدہ ہے اور نہ وہ سنجیدگی سے یہ بات چیت کرے گی۔

حزب اختلاف کی مذاکراتی ٹیم میں بشارالاسد کے مخالف سیاسی اور عسکری دھڑوں سے تعلق رکھنے والے سترہ ارکان شامل ہیں۔ان کے وفد نے آج اتوار کو اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا سے ملاقات کی ہے۔

مسٹر مستورا نے شامی حزب اختلاف کے مرکزی گروپ کے وفد کے ساتھ بات چیت کے بعد خوش اُمیدی اور عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے اور اس کو ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔

سالم مصلاط کا کہنا تھا کہ ایچ این سی نے اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔اس میں تمام فریقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرہ شامیوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے کی اجازت دیں،اپنے اپنے زیر حراست قیدیوں کو رہا کردیں۔محاصرے ختم کریں اور شہریوں کو ہدف بنانے کا سلسلہ بند کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات میں شرکت کے لیے کوئی پیشگی شرط تو نہیں تھی لیکن اس قرار داد پر عمل درآمد کرانا سلامتی کونسل کے ارکان کی ذمے داری تھی۔

درایں اثناء شامی وزیر اطلاعات عمر الزوبی نے واضح کیا ہے کہ اسد حکومت دو جنگجو گروپوں کے ناموں کا دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے اخراج ہرگز بھی قبول نہیں کرے گی۔شامی فوج کے خلاف لڑنے والے دوگروپوں احرارالشام اور لشکراسلام نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن مذاکرات میں حصہ لینے سے اتفاق کیا تھا اور ان کے نمائندے بھی حزب اختلاف کی مذاکراتی ٹیم میں شامل ہیں۔

لیکن شامی حکومت اور اس کے قریبی اتحادی روس نے ان دونوں گروپوں کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں کو جنیوا امن مذاکرات کے عمل سے نکالا جائے اور انھیں بھی داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کی طرح بحران کے حل کے لیے امن عمل شامل ہی نہیں کیا جانا چاہیے۔