.

شامی اپوزیشن کی جنیوا مذاکرات کے بائیکاٹ کی دھمکی

شہروں کا محاصرہ ختم اور بمباری روکنے کے مطالبات پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور اقوام متحدہ کی یقین دہانیوں کے بعد حکومت سے مذاکرات پر آمادہ ہونے والی شامی اپوزیشن نے جنیوا پہنچنے کے بعد ایک بار پھر مذاکرات کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شام میں شہریوں کے خلاف شامی فوج کی جارحیت کے تسلسل میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

خیال رہے کہ شامی اپوزیشن کے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں موجود نمائندہ وفد کو جنیوا بھجوانے سے قبل امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ شام کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر ہرصورت میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور اپوزیشن کے تمام دیرینہ مطالبات منوائے جائیں گے۔

شامی اپوزیشن کا وفد آج جنیوا میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی مسٹورا سے بھی ملاقات کرے گا۔

درایں اثناء روس کی نائب وزیرخارجہ جینادی جاتیلوف نے کہا ہے کہ جنیوا مذاکرات سے قبل کوئی پیشگی شرط عاید نہیں کی گئی ہے۔ ’’انٹرفیکس‘‘ نیوز ایجنسی کے مطابق نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جنیوا میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا امکان نہیں تاہم بالواسطہ بات چیت ہو سکتی ہے۔

روسی نائب وزیرخارجہ جاتیلوف جنیوا میں شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا روانہ ہو گئی ہیں۔ انٹرفیکس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی اسٹیفن ڈٰی میسٹورا نے فریقین میں بالواسطہ بات چیت کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔ وہ یکے بعد دیگرے شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کا موقف سنیں گے اور فریقین کواس سے آگاہ کریں گے۔

قبل ازیں شام کی سپریم مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اپوزیشن کا نمائندہ وفد شام کے تنازع پر بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ گیا ہے۔

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے مطابق شامی اپوزیشن کے مذاکراتی وفد میں 17 ارکان شامل ہیں جو سپریم مذاکراتی کونسل کے چیئرمین ریاض حجاب کی قیادت میں جنیوا پہنچے ہیں۔ شامی اپوزیشن کا وفد آج اتوار کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ڈی میسٹورا سے ملاقات میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر عمل درآمد کے حوالے سے بات چیت کرے گا۔

قبل ازیں اپوزیشن کے ترجمان منذر ماخوس نے ٹیلیفون پر’’اے ایف پی‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنیوا پہنچنے والے وفد میں 20 ارکان ہیں جو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سے مذاکرات کے موقع پر موجود ہوں گے۔

ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کی اہم کامیابی قرارداد 2254 پر شامی حکومت کو عمل درآمد پر آمادہ کرنا ہے۔ خاص طور پر اس قرارداد کی شق 12 اور 13 پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ ان شقوں میں شامی حکومت سے شہروں کا محاصرہ ختم کرنے، امدادی سامان کارروائیوں کی بحالی، بمباری کی روک تھام اور قیدیوں کی رہائی کے مطالبات کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ شامی اپوزیشن کے نمائندہ وفد نے سعودی عرب میں طویل صلاح مشاورت کے بعد تیسرے جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے شام میں اسدی فوج کی بمباری روکنے اور شہروں کا محاصرہ ختم کرنے کی پیشگی شرط عاید کی تھی تاہم امریکا شامی وفد کو مذاکرات میں غیرمشروط طورپر شرکت پرآمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور امریکا کی یقین دہانیوں کے بعد شامی اپوزیشن جنیوا مذاکرات میں بے دلی سے آمادہ ہوئی تھی مگر اب اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن نے ایک بار پھر مذاکرات کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔