.

شام : مزار سیدہ زینب کے نزدیک بم دھماکے ،60 جاں بحق

داعش نے بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی،مہلوکین میں 25 شیعہ جنگجو شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق میں نواسیِ رسول حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کے نزدیک اتوار کے روز دو خودکش بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں کم سے کم ساٹھ افراد جاں بحق اور ایک سو بیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ بارود ایک کار میں نصب کیا گیا تھا اور حملہ آور نے پہلے اس کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔اس کے بعد دوسرے خودکش بمبار نے دھماکا کیا ہے۔ مرنے والوں میں پچیس شیعہ جنگجو بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار پر زائرین کا ہر وقت رش لگا رہتا ہے۔داعش نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''خلافت کے دو فوجیوں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کے نزدیک یہ فدائی کارروائی کی ہے۔اس کے نتیجے میں قریبا پچاس افراد مارے گئے ہیں اور کم سے کم ایک سو بیس زخمی ہوئے ہیں''۔

قبل ازیں شام کے سرکاری میڈیا نے ان بم حملوں میں پینتالیس افراد کی ہلاکت اور ایک سو دس کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکوں سے اڑایا تھا۔دھماکوں کے نتیجے میں نزدیک واقع عمارتوں کو آگ لگ گئی اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن اخباریہ نے ان کی فوٹیج بھی نشر کی ہے۔

اخباریہ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ پہلے بارود سے بھری کار سے دھماکا کیا گیا تھا اور اس کے بعد وہاں زخمیوں کو اٹھانے کے لیے آنے والے لوگوں کے درمیان دو خودکش بمباروں نے دھماکے کیے ہیں۔

یہ تباہ کن بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان امن مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔شامی وزیراعظم وائل الحلقی نے واقعے کے ردعمل میں کہا ہے کہ دہشت گرد گروپوں نے اپنا مورال بلند کرنے کے لیے یہ بم دھماکے کیے ہیں کیونکہ انھیں فوج کے مقابلے میں میدان جنگ میں پے درپے شکستوں کا سامنا ہے۔